پروفیسر پجاری کی دنیاداری

فراق گورکھپوری

پروفیسر پجاری کی دنیاداری

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    یونیورسٹی کے ایک پروفیسربہت زیادہ پوجاپاٹ کرتے تھے مگر دنیوی ترقی کے پیچھے پاگل بھی تھے ۔ ایک دن فراق صاحب کو شرارت سوجھی اور ٹہلتے ٹہلتے ان کے گھر پر پہنچ گئے۔ دستک دی تو نوکر برآمد ہوا۔ فراق صاحب نے پوچھا۔’’پروفیسر صاحب ہیں؟‘‘ نوکر نے کہا’’ہیں‘‘ مگر پوجا کررہے ہیں۔‘‘

    فراق صاحب نے کہا:’’ان سے ابھی کچھ نہ کہنا جب پوجا ختم کرلیں تو کہہ دینا مہاراجہ بڑودہ کے سیکریٹری بہت ضروری کام سے ملنے آئے تھے ۔‘‘

    یہ کہہ کر فراق صاحب چلے آئے ۔ پوجا کے بعد پروفیسر صاحب کو بتایا گیا تو وہ قریب قریب پاگل ہوگئے۔

    ’’الو کے پٹھے مجھ سے فوراً کیوں نہیں بتایاگیا۔‘‘

    ان لوگوں نے کہا:

    ’’آپ ہی کا حکم ہے کہ پوجا میں آپ کوڈسٹرب نہ کیا جائے۔‘‘

    بولے: ارے یہ حکم ہر موقع کے لئے نہیں ہے ۔کیا معلوم کیا بات کرنی تھی اسے... خدا جانے کیا پیغام تھا مہاراجہ کا... اب اسے کہاں ڈھونڈوں... اسے بٹھایا کیوں نہیں... اس سے پتہ کیوں نہیں لیا کہ وہ کہاں ٹھہرا ہے ۔‘‘

    پروفیسرصاحب تین دن تک سارے شہر میں مہاراجہ بڑودہ کے سیکریٹری کی تلاش کرتے رہے ۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY