شیطان بولتا ہے

فراق گورکھپوری

شیطان بولتا ہے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    تقریباً1944ء میں ایک بار جوش الہ آباد یونیورسٹی گئے ۔ ادبی تقریب میں ڈائس پر جوش کے علاوہ فراق بھی موجود تھے ۔ جوش نے اپنی طویل نظم’’ حرف آخر‘‘ کا ایک اقتباس سنایا۔ اس میں تخلیق کائنات کی ابتداء میں شیطان کی زبانی کچھ شعر ہیں ۔ جوش شیطان کے اقوال پر مشتمل اشعار سنانے والے تھے کہ فراق نے سامعین سے کہا۔’’سنئے حضرات، شیطان کیا بولتا ہے ۔‘‘اور اس کے بعد جوش کو بولنے کا اشارہ کیا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY