(۵) فلک قتل سبط پیمبر ہے کل

میر تقی میر

(۵) فلک قتل سبط پیمبر ہے کل

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    فلک قتل سبط پیمبر ہے کل

    یہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کل

    سحر شام تیرہ سے بدتر ہے کل

    بلا کل مکل ہے کہ محشر ہے کل

    کہاں ہوگا افسر سر شہ کہاں

    یہ خیمہ کہاں اور خرگہ کہاں

    جو کچھ ہے حشم آج سو یہ کہاں

    نہ حاکم نہ یاور نہ داور ہے کل

    نہ ہوگا کوئی جو کرے داوری

    رہے گی وہ لاش اس زمیں پر پڑی

    نگہبان ہوگا خداے قوی

    مصیبت عجیب ایک اس پر ہے کل

    نہ ہوگا کوئی یار و انصار آہ

    نہ خویش و برادر نہ رتبہ نہ جاہ

    مرے گا بہت ہوکے بیکس وہ شاہ

    نہ قاسم نہ اکبر نہ اصغر ہے کل

    جو بازو ہیں جاویں گے سب دے کے جاں

    نظر جس کے اوپر کرے سو کہاں

    ستم ہوگا چاروں طرف سے عیاں

    نہ احمدؐ معاون نہ حیدر ہے کل

    نہ عباس ہوگا نہ ہوگا علم

    کہ ہاتھ اس کا بازو سے ہوگا قلم

    رہیں گے جو پیچھے کسان حرم

    سو ان کو نہ جاگہ نہ گھر در ہے کل

    سر شہ نہ ہوگا یہ اسرار ہے

    کسان حرم اور بازار ہے

    رہے گا جو سجاد بیمار ہے

    سو اس کو نہ دارو نہ بستر ہے کل

    معزز حرم کے رہیں گے جو لوگ

    پریشاں پھریں گے گرفتار سوگ

    اسیری و غارت سے چالوں کو روگ

    نہ پردہ انھوں کو نہ چادر ہے کل

    جہاں جاے عبرت ہے کیا اعتبار

    ہمیشہ نہیں ایک کا اختیار

    شکست شہ دیں سے ہے آشکار

    نہ وہ کوکبہ ہے نہ لشکر ہے کل

    دم آب ہووے گا نایاب وھاں

    نہ کنبہ قبیلہ نہ احباب وھاں

    نہ دولت سرا وہ نہ اسباب وھاں

    نہ ساماں نہ سر ہے نہ سرور ہے کل

    تن نازنیں ہوگا گھائل تمام

    بلا ہوگا اس ایک پر ازدحام

    جبیں سے بہے گا لہو لعل فام

    گلوے مبارک پہ خنجر ہے کل

    بچے گا جو بیٹا سو ہوگا اسیر

    عزیز حرم سب بحال تغیر

    بکا کرتے ہیں ہوں گے صغیر و کبیر

    کہاں ایسی غارت سے وہ گھر ہے کل

    سکینہ کہے گی پدر کیا ہوا

    کرے دل دہی جو گلے سے لگا

    نہ کلثوم کے پاس ہوگی ردا

    نہ زینب کے تارک پہ معجر ہے کل

    قیامت ہے اودھر کو ہوگا گذار

    جدھر اس طرح کا ہوا کارزار

    نظر آوے گی لاش شہ ایک بار

    نہ ہوگا وہ ساماں نہ وہ سر ہے کل

    فلک حال پر تیرے روتے ہیں آہ

    کہاں ہوں گے یہ دیدۂ مہر و ماہ

    جہاں ان کی آنکھوں میں ہوگا سیاہ

    کرے سوجھتا تو تو بہتر ہے کل

    نہ ہووے گا سادات میں مرد ایک

    مگر عابدیں زار اور زرد ایک

    زمیں سے اٹھے گی سیہ گرد ایک

    سپہر بریں تک مکدر ہے کل

    سر شہ سناں پر رکھا جاوے گا

    لٹا قافلہ بھی چلا جاوے گا

    بس اب مت لکھے کیا لکھا جاوے گا

    زمانہ ہی اے میرؔ دیگر ہے کل

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-miir-Vol 2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY