ہجر کے پر بھیگ جائیں

نوشی گیلانی

ہجر کے پر بھیگ جائیں

نوشی گیلانی

MORE BYنوشی گیلانی

    کہاں تک خیمۂ دل میں چھپائیں

    اپنی آسوں اور پیاسوں کو

    کہاں تک خوف کے بے شکل صحرا کی ہتھیلی پر

    کریدے جائیں آنکھیں اور

    لکیریں روشنی کی پھر نہ بن پائیں

    ہم انساں ہو کے بھی سائے کی خوشبو کو ترس جائیں

    چلو اک دوسرے کی خواہشوں کی دھوپ میں

    جلتے ہوئے آنگن کی ویرانی میں آنکھیں بند کر لیں اور برس جائیں

    یہاں تک ٹوٹ کر برسیں کہ پانی

    وصل کی مٹی میں خوشبو گوندھ لے اور پھر سروں تک سے گزر جائے

    زمین سے آسماں تک ایک ہی منظر سنور جائے

    ہمارے راستوں پر آسماں اپنی گواہی بھیج دے

    خوشبو بکھر جائے

    زمیں پاؤں کو چھو لے

    چاندنی دل میں اتر جائے

    ہوا گر ہجر کی سازش میں حصہ دار بن کر درمیاں آئے

    ہجر کے پر بھیگ جائیں اور

    ہوا پانی میں مل جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Mohabbatein Jab Shumar Karna (Pg. 105)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY