میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

ضیاء الحق قاسمی

میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

ضیاء الحق قاسمی

MORE BYضیاء الحق قاسمی

    میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

    مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے

    کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا

    میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

    مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا

    میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا کوئی اور ہے

    میں ٹنگا رہا تھا منڈیر پر کہ کبھی تو آئے گا صحن میں

    میں تھا منتظر کسی اور کا مجھے گھورتا کوئی اور ہے

    سر بزم مجھ کو اٹھا دیا مجھے مار مار لٹا دیا

    مجھے مارتا کوئی اور ہے ولے ہانپتا کوئی اور ہے

    مجھے اپنی بیوی پہ فخر ہے مجھے اپنے سالے پہ ناز ہے

    نہیں دوش دونوں کا اس میں کچھ مجھے ڈانٹتا کوئی اور ہے

    میں تو پھینٹ پھینٹ کے پھٹ گیا میں پھٹا ہوا وہی تاش ہوں

    مجھے کھیلتا کوئی اور ہے مجھے پھینٹتا کوئی اور ہے

    مرے رعب میں تو وہ آ گیا مرے سامنے تو وہ جھک گیا

    مجھے لات کھا کے ہوئی خبر مجھے پیٹتا کوئی اور ہے

    ہے عجب نظام زکوٰۃ کا مرے ملک میں مرے دیس میں

    اسے کاٹتا کوئی اور ہے اسے بانٹتا کوئی اور ہے

    جو گرجتے ہوں وہ برستے ہوں کبھی ایسا ہم نے سنا نہیں

    یہاں بھونکتا کوئی اور ہے یہاں کاٹتا کوئی اور ہے

    عجب آدمی ہے یہ قاسمیؔ اسے بے قصور ہی جانئے

    یہ تو ڈاکیا ہے جناب من اسے بھیجتا کوئی اور ہے

    RECITATIONS

    ضیاء الحق قاسمی

    ضیاء الحق قاسمی

    ضیاء الحق قاسمی

    میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے ضیاء الحق قاسمی

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY