عادت

MORE BYکیفی اعظمی

    مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیر

    سر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہا

    روشنی چاہیئے، چاندنی چاہیئے، زندگی چاہیئے

    روشنی پیار کی، چاندنی یار کی، زندگی دار کی

    اپنی آواز سنتا رہا رات دن

    دھیرے دھیرے یقیں دل کو آتا رہا

    سونے سنسار میں

    بے وفا یار میں

    دامن دار میں

    روشنی بھی نہیں

    چاندنی بھی نہیں

    زندگی بھی نہیں

    زندگی ایک رات

    واہمہ کائنات

    آدمی بے بساط

    لوگ کوتاہ قد

    شہر شہر حسد

    گاؤں ان سے بھی بد

    ان اندھیروں نے جب پیس ڈالا مجھے

    پھر اچانک کنویں نے اچھالا مجھے

    اپنے سینے سے باہر نکالا مجھے

    سیکڑوں مصر تھے سامنے

    سیکڑوں اس کے بازار تھے

    ایک بوڑھی زلیخا نہیں

    جانے کتنے خریدار تھے

    بڑھتا جاتا تھا یوسف کا مول

    لوگ بکنے کو تیار تھے

    کھل گئے مہ جبینوں کے سر

    ریشمی چادریں ہٹ گئیں

    پلکیں جھپکیں نہ نظریں جھکیں

    مرمریں انگلیاں کٹ گئیں

    ہاتھ دامن تک آیا کوئی

    دھجیاں دور تک بٹ گئیں

    میں نے ڈر کے لگا دی کنویں میں چھلانگ

    سر پٹکنے لگا پھر اسی کرب سے

    پھر اسی درد سے گڑگڑانے لگا

    روشنی چاہیئے چاندنی چاہیئے زندگی چاہیئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY