اگر انہیں معلوم ہو جائے

افضال احمد سید

اگر انہیں معلوم ہو جائے

افضال احمد سید

MORE BYافضال احمد سید

    وہ زندگی کو ڈراتے ہیں

    موت کو رشوت دیتے ہیں

    اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں

    وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں

    اور امید رکھتے ہیں

    ہم خود کو ہلاک کر لیں گے

    وہ چڑیا گھر میں

    شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں

    اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں

    اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں

    جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا

    وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں

    جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ

    وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں

    اگر انہیں معلوم ہو جائے

    وہ اچھے قاتل نہیں

    تو وہ کانپنے لگیں

    اور ان کی نوکریاں چھن جائیں

    وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں

    اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں

    وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں

    اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں

    اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے

    کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے

    پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Agar unhein maloom ho jaye - Afzal Ahmad Syed نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY