آٹوگراف

مجید امجد

آٹوگراف

مجید امجد

MORE BYمجید امجد

    کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے

    کتابچے لیے ہوئے

    کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں

    ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

    مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے

    ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلے

    گرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے

    کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف

    بیاض آرزو بکف

    نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

    لرز رہا ہے دم بہ دم

    کمان ابرواں کا خم

    کوئی جب ایک ناز بے نیاز سے

    کتابچوں پہ کھنچتا چلا گیا

    حروف کج تراش کی لکیر سی

    تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

    کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

    حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

    تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئی

    وہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا

    وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں پھری

    حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

    میں اجنبی میں بے نشاں

    میں پا بہ گل

    نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے

    یہ لوح دل یہ لوح دم

    نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Autograph - Majeed Amjad نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 153)
    • Author : Majiid Amjad
    • مطبع : Farid Book Depot (p) Ltd. (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY