بہروپیا

شارق کیفی

بہروپیا

شارق کیفی

MORE BY شارق کیفی

    انوکھا اور نیا غم شرط ہے کوئی

    تمہارے خودکشی کرنے کی

    تو پھر بھول جاؤ

    یہاں تو بس وہی غم ہیں

    پرانے غم

    کہ جن سے کام یہ دنیا چلاتی آ رہی ہے

    مگر تم ہو کہ ہنس دیتے ہو ان پر

    اگر یہ غم تمہیں غم ہی نہیں لگتے

    کہ محبوبہ تمہاری بے وفا ہے

    کہ وہ بچہ

    چھٹی جس کی منانا تھی تمہیں آج

    ناک میں ہے آکسیجن ٹیوب اس کے

    تو پھر یہ گولیاں سلفاس کی بیکار میں تم جیب میں رکھے ہوئے ہو

    انہیں جا کر اسی کٹھیا میں رکھ آؤ

    کہ جس میں کل ہی تم نے سال بھر کے واسطے گیہوں بھرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY