چاند کے مسافر

محبوب خزاں

چاند کے مسافر

محبوب خزاں

MORE BYمحبوب خزاں

    زندگی کو دیکھا ہے زندگی سے بھاگے ہیں

    روشنی کے آنچل میں تیرگی کے دھاگے ہیں

    تیرگی کے دھاگوں میں خون کی روانی ہے

    درد ہے محبت ہے حسن ہے جوانی ہے

    ہر طرف وہی اندھا کھیل ہے عناصر کا

    تیرتا چلے ساحل ڈوبتا چلے دریا

    چاند ہو تو کاکل کی لہر اور چڑھتی ہے

    رات اور گھٹتی ہے بات اور بڑھتی ہے

    یہ کشش مگر کیا ہے ریشمی لکیروں میں

    شام کیسے ہوتی ہے ناچتے جزیروں میں

    ہر قدم نئی الجھن سو طرح کی زنجیریں

    فلسفوں کے ویرانے دوسروں کی جاگیریں

    آندھیاں اجالوں کی گھن گرج سیاست کی

    کانپتے ہیں سیارے رات ہے قیامت کی

    جنگ سے جلے دنیا چاند کو چلے پاگل

    آنکھ پر گرے بجلی کان میں پڑے کاجل

    دور ہے پرندوں کا چھیڑ ہے ستاروں سے

    کائنات عاجز ہے ہم گناہ گاروں سے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY