ایک لڑکا

اختر الایمان

ایک لڑکا

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر

    کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر

    کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میں

    کبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں

    سحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میں

    کبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میں

    تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میں

    کبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں

    برہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میں

    گریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میں

    کبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہ

    کبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہ

    ہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتا

    پرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتا

    مجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانی

    مجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانی

    نظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاں

    مرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاں

    اسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میرا

    تعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوں

    یہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو

    خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں

    مجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایا

    کہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہو

    مجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہ

    اسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کو

    فضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کی

    چٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سے

    مری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دی

    سمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سے

    ہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیں

    وہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہے

    اندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میں

    اگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہے

    اسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبت

    اسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہے

    تونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کو

    مگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہے

    یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو

    معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میں

    جز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کو

    خروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہے

    عناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تک

    نوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہے

    ظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر

    کبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہے

    وہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہو

    اسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہے

    کبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوں

    کہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہے

    غرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکن

    سحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جب

    یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو

    یہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوں

    وہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آسا

    جسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالم

    اسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کا

    اسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوں

    میں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نے

    کبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گا

    یہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہے

    یہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    دانش اقبال

    دانش اقبال

    RECITATIONS

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    ایک لڑکا اختر الایمان

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites