فلمی عشق

ظریف جبلپوری

فلمی عشق

ظریف جبلپوری

MORE BY ظریف جبلپوری

    محبت جس کو کہتے ہیں بڑی مشکل سے ہوتی ہے

    فقط اک بار ہوتی ہے خلوص دل سے ہوتی ہے

    جہان فلم میں الفت کا ہر نخرا نرالا ہے

    یہ ایسی دال ہے جس دال میں کالا ہی کالا ہے

    اگر بازار میں لڑکی پھسل جائے محبت ہے

    سہارا پا کے لڑکے کا سنبھل جائے محبت ہے

    کسی لڑکی کو ڈاکو سے چھڑا کر لاؤ الفت ہو

    کسی کی سائیکل سے سائیکل ٹکراؤ الفت ہو

    یہ فلمی عشق نے کیسا نیا پہلو نکالا ہے

    پولس کپتان کی لڑکی کا عاشق رکشے والا ہے

    مقدر کو کہیں سے ساز گاری ہی نہیں ملتی

    وہی ملتی ہے اور کوئی سواری ہی نہیں ملتی

    امیری پر غریبی کا وہ یوں سکہ جماتا ہے

    کرایہ تک نہیں لیتا مگر چڈی کھلاتا ہے

    سر بازار ہیرو سے جو ایکسیڈنٹ ہو جائے

    تو اس کا عشق ایکسیڈنٹ سے ڈیسینٹ ہو جائے

    بہ ظاہر دیکھنے میں صرف اک موٹر کی ٹکر ہے

    کسی دل پھینک سے لیکن کسی دلبر کی ٹکر ہے

    وہ ہیروئن کو موٹر میں شفا خانے بھی لائے گا

    اور اس کے دل کو بہلانے کو گانا بھی سنائے گا

    وہ گانا جس میں حال دل کی پوری ترجمانی ہو

    مگر یہ شرط ہے بھرپور دونوں کی جوانی ہو

    وہ پھر موٹر سے ٹکر کی شکایت بھول جائے گی

    وہ زخم دل کے آگے ہر جراحت بھول جائے گی

    جناب سیٹھ صاحب کی جو اک بے ماں کی بچی ہے

    نہایت لاڈلی ہے عمر پختہ عقل کچی ہے

    اور اس کو سیٹھ کے دفتر کے اک بابو سے الفت ہے

    منیجر اور بابو کے لیے وجہ رقابت ہے

    نتیجہ میں ولن ناشاد ہیرو شاد ہوتا ہے

    ترقی پا کے بابو سیٹھ کا داماد ہوتا ہے

    کبھی لڑکی پہ جو تنہا سفر کا سانحہ گزرے

    تو چلتی ریل میں بھی عشق کا یہ حادثہ گزرے

    کہ ہیرو ریل کے سنڈاس سے ڈبے میں آئے گا

    اور اس کے بعد ہیروئن کو بس بے ہوش پائے گا

    وہ اس کے سر کو پھر زانو پہ رکھ کر گال تھپکے گا

    اور اس کی آنکھ سے اک عشق کا آنسو بھی ٹپکے گا

    تو ہیروئن بھی بس گھبرا کے آنکھیں کھول ڈالے گی

    یہ اس کا دل سنبھالے گا وہ اس کا دل سنبھالے گی

    ہوں دو بہنیں بڑی کا ان میں اکلوتا منگیتر ہو

    محبت سے بپا دونوں کے دل میں ایک محشر ہو

    کہ چھوٹی کو بھی الفت اس سے ہوگی برملا ہوگی

    وہ اپنے ہونے والے دولہا بھائی پہ فدا ہوگی

    فراق یار میں گانے کا یہ انداز ہوتا ہے

    وہ جنگل ہو کہ بستی ہو یقیناً ساز ہوتا ہے

    غزل آدھی جو ہیرو نے کسی جنگل میں گائی ہے

    اسی کی آدھی ہیروئن نے بستی میں سنائی ہے

    جو سازندے، پیانو، وائلن طبلہ بجاتے ہیں

    کبھی جنگل میں جاتے ہیں کبھی بستی میں آتے ہیں

    یہ فلمی عشق ہے، لے دے کے بس اس کا یہ حاصل ہے

    ہماری قوم کے بچوں کے حق میں زہر قاتل ہے

    ظریفؔ انجام کیا ہوگا جو میرا دل بھی کھو جائے

    کہیں ایسا نہ ہو، مجھ کو بھی فلمی عشق ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites