رات

گلزار

رات

گلزار

MORE BYگلزار

    مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھے

    یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ

    آج ہی جو مر گیا ہے دن

    وہ دن ہم زاد تھا اس کا

    وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے

    اک دیا دہلیز پر رکھ کر

    نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر

    اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے

    میں شب کو کیسے بتلاؤں

    بہت سے دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے

    کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے

    جنہیں میں آج تک دفنا نہیں پایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY