کتاب گمراہ کر رہی ہے

شہرام سرمدی

کتاب گمراہ کر رہی ہے

شہرام سرمدی

MORE BYشہرام سرمدی

    کتاب گمراہ کر رہی ہے

    پہ اک یقیں ہے کہ

    اتنی گمراہیوں کے پیچھے

    کوئی تو اک راہ ہوگی

    جو منزلوں سے نہیں ملے گی

    سفر پہ جو گامزن رکھے گی

    یہ شرک کہنہ

    سفر کی وحدانیت کو مجروح کر رہا ہے

    کہاں کی منزل

    کہاں ہے منزل

    یہ شرک کے ہیں سراب سارے

    ہم آپ ہیں محو خواب سارے

    یہ شرک افیون بن کے خوں میں گھلا ہوا ہے

    ہجوم منزل میں اب سفر کی شناخت

    خود ایک مسئلہ ہے

    سفر خلا ہے

    خلا میں جو کچھ بھی ہو نتیجہ وہی خلا ہے

    یہی خلا ہے!

    خلا کو منزل کے نقش پا سے کثیف کرنے کا

    احمقانہ خیال چھوڑو

    کتاب گمراہ کر رہی ہے!

    سفر پہ نکلو

    پہ منزلوں کے مہیب سایوں کی زد سے

    خود کو بچائے رکھو

    سفر پہ پاؤں جمائے رکھو

    یہ سب وجود و عدم کے قصے

    سفر میں تخلیق ہو رہے ہیں

    ازل نہیں ہے ابد نہیں ہے

    یہ اک سفر ہے کہ حد نہیں ہے

    تو کیسے نا حد میں

    منزلوں کی حدیں بنائیں

    خلا خلا خلائیں

    اسی وجود خلا میں انساں

    وجود انسان شرک اعظم

    یہ ایک نکتہ ہے اسم اعظم

    کس اسم اعظم کی جستجو میں

    کتاب تصنیف ہو رہی ہے

    کتاب تالیف ہو رہی ہے

    وجود انساں

    کتاب تصنیف کر رہا ہے

    کتاب تالیف کر رہا ہے

    کتاب گمراہ کر رہی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 18)
    • Author : Shahram Sarmadi
    • مطبع : Dehleez Publications (2014)
    • اشاعت : 2014

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY