میں اور میری تنہائی

انجم سلیمی

میں اور میری تنہائی

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    ہم سمندر سے ملنے ذرا دیر سے پہنچے

    رات سمندر سے زیادہ گہری ہو رہی تھی

    ہم ننگے پاؤں ساحل کے ساتھ

    بہت دور تک چلے

    دنوں کے بعد سرشاری نے اپنا چہرہ دکھایا تھا

    اور ہماری بھولی ہوئی دھن گنگنائی تھی

    سمندر ہماری خاموشی میں ڈوبنے ہی والا تھا

    جب ہمارا گیت پتوار ہوا

    اجنبی قدموں کے نشان چنتے ہوئے

    خیال آیا

    چہل قدمی کرتے ہوئے وہ دو سائے کیا ہوئے

    یہ لہریں جن کے پاؤں چرا لائی ہیں

    تبھی ہم نے اپنے جوتوں میں جھانک کر دیکھا

    ساحل ابھی پوری طرح نہیں پھسلا تھا

    ہم نے سوچا

    سمندر کو اب سو جانا چاہیئے

    رات کی خنکی ہماری رگوں میں اتر چکی تھی

    جب ہم واپسی کے لیے مڑے

    سمندر بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہمیں رخصت کرنے آیا

    غنودہ چاند روشن ہوا

    اور ہمیں گھر تک چھوڑنے کی ضد کی

    ہم نے دبے پاؤں اونگھتے دروازے پر دستک دی

    جہاں اداسی دیر سے ہمارا انتظار کر رہی تھی!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY