میں تمہیں یاد کر رہا تھا

ثروت حسین

میں تمہیں یاد کر رہا تھا

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    جب درخت خاموش تھے

    اور بادل شور کر رہے تھے

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    جب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیں

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    جب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھا

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    جب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھی

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    جب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھے

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    جب دنیا میں ہر شخص کے پاس ایک نہ ایک کام تھا

    میں تمہیں یاد کر رہا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 116)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY