مرنے والے سے جلن

شارق کیفی

مرنے والے سے جلن

شارق کیفی

MORE BY شارق کیفی

    ذرا سا غم نہیں چہرے پہ ان کے

    میاں سر پر کوئی رومال ہی رکھ لو

    انہیں تو موت آنا ہی نہیں ہے

    وہی طعنے

    وہی فقرے

    ابھی تک میرا پیچھا کر رہے ہیں ہر جنازے میں

    میں اپنی چال کی رفتار تھوڑی اور کم کر کے

    نکل آتا ہوں باہر بھیڑ سے

    اور رک کے اک دکان پر سگریٹ جلاتا ہوں

    جنازہ دور ہوتا جا رہا ہے

    یہ سب کیا ہے؟

    اداکاری نہیں آتی مجھے تو کیا کروں میں

    اور سچی بات کہہ دوں تو مجھے پاگل سمجھ لے گی یہ دنیا

    ہاں یہ سچ ہے

    مجھے رتی برابر غم نہیں ہوتا کسی کی موت کا

    اور یہ بھی سن لو

    مری جس مسکراہٹ پر یہاں ناراض ہیں سب

    سبب اس کا جلن ہے

    جو میں محسوس کرتا ہوں کسی بھی مرنے والے سے

    کڑھن ہوتی ہے مجھ کو سوچ کر

    کہ میں جس امتحاں کے خوف سے بے حال اور بے چپن پھرتا ہوں

    وہ یہ صاحب

    جو کاندھوں پر ہیں

    ان کا ہو چکا

    اور میرا باقی ہے

    RECITATIONS

    شارق کیفی

    شارق کیفی

    شارق کیفی

    مرنے والے سے جلن شارق کیفی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY