پرچھائیاں

سرفراز خالد

پرچھائیاں

سرفراز خالد

MORE BYسرفراز خالد

    رات کی قبر میں ساری پرچھائیاں دفن کر دو

    چلو دن کی دنیا سے کچھ اور پرچھائیاں جمع کر لائیں

    اور پھر انہیں رات کی قبر میں دفن کر دیں سدا کے لیے

    زندگی اپنی رفتار سے یوں ہی چلتی رہے

    روشنی یوں ہی پرچھائیوں میں بدلتی رہے

    اور پھر ایک دن یہ بھی ہو

    ہم بھی پرچھائیوں میں بدل جائیں اور سب ہم کو بھی

    رات کی قبر میں دفن کر دیں سدا کے لیے

    اور پرچھائیاں دفن کرنے کا یہ سلسلہ

    یوں ہی چلتا رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے