کسانوں کا گیت

مسعود اختر جمال

کسانوں کا گیت

مسعود اختر جمال

MORE BYمسعود اختر جمال

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے

    امرت بادل بن کے اٹھے ہیں پربت سے ٹکرائیں گے

    کھیتوں کی ہریالی بن کر چھب اپنی دکھلائیں گے

    دنیا کا دکھ سکھ اپنا کر دنیا پر چھا جائیں گے

    ذرہ ذرہ اس دنیا کا آج گگن کا تارا ہے

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے

    دکھ بندھن کٹ جائیں گے سکھ کا سندیسہ آئے گا

    مٹی اب سونا اگلے گی بادل ہن برسائے گا

    محنت پر ہے جس کا بھروسہ محنت کا پھل پائے گا

    اپنے ہی کس بل کا سمندر وقت کا بہتا دھارا ہے

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے

    سپنوں کے سندر آنچل سے آشا روپ دکھاتی ہے

    اپنی ہی آواز کی لے پر ساری دنیا گاتی ہے

    آج ترنگے کی لہروں میں بجلی سی لہراتی ہے

    ایک ہی وار میں اب اے ساتھی دشمن سے چھٹکارا ہے

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY