پیار کا جشن

کیفی اعظمی

پیار کا جشن

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگا

    غم کسی دل میں سہی غم کو مٹانا ہوگا

    کانپتے ہونٹوں پہ پیمان وفا کیا کہنا

    تجھ کو لائی ہے کہاں لغزش پا کیا کہنا

    میرے گھر میں ترے مکھڑے کی ضیا کیا کہنا

    آج ہر گھر کا دیا مجھ کو جلانا ہوگا

    روح چہروں پہ دھواں دیکھ کے شرماتی ہے

    جھینپی جھینپی سی مرے لب پہ ہنسی آتی ہے

    تیرے ملنے کی خوشی درد بنی جاتی ہے

    ہم کو ہنسنا ہے تو اوروں کو ہنسانا ہوگا

    سوئی سوئی ہوئی آنکھوں میں چھلکتے ہوئے جام

    کھوئی کھوئی ہوئی نظروں میں محبت کا پیام

    لب شیریں پہ مری تشنہ لبی کا انعام

    جانے انعام ملے گا کہ چرانا ہوگا

    میری گردن میں تری صندلی باہوں کا یہ ہار

    ابھی آنسو تھے ان آنکھوں میں ابھی اتنا خمار

    میں نہ کہتا تھا مرے گھر میں بھی آئے گی بہار

    شرط اتنی تھی کہ پہلے تجھے آنا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY