سزا

MORE BYجون ایلیا

    ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم

    ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں

    تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم

    میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں

    تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں

    اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں

    تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں

    پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو

    بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم

    جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو

    تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض

    تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو

    میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا

    تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو

    تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی

    اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو

    میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات

    میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو

    اپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیے

    بازار التفات میں نادار ہی رہو

    جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکا

    غم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکا

    جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیں

    جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں

    پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

    تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    مأخذ :
    • کتاب : shayad (Pg. 70)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY