شاعری میں نے ایجاد کی

افضال احمد سید

شاعری میں نے ایجاد کی

افضال احمد سید

MORE BY افضال احمد سید

    کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا

    حروف فونیشیوں نے

    شاعری میں نے ایجاد کی

    قبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیا

    تندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائی

    روٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کی

    اور مل کر گانا سیکھا

    روٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آ کر کھڑی ہو گئیں

    تو فاقہ ایجاد ہو گیا

    شہتوت بیچنے والے نے ریشم کا کیڑا ایجاد کیا

    شاعری نے ریشم سے لڑکیوں کے لیے لباس بنایا

    ریشم میں ملبوس لڑکیوں کے لیے کٹنیوں نے محل سرا ایجاد کی

    جہاں جا کر انہوں نے ریشم کے کیڑے کا پتا بتا دیا

    فاصلے نے گھوڑے کے چار پاؤں ایجاد کیے

    تیز رفتاری نے رتھ بنایا

    اور جب شکست ایجاد ہوئی

    تو مجھے تیز رفتار رتھ کے آگے لٹا دیا گیا

    مگر اس وقت تک شاعری محبت کو ایجاد کر چکی تھی

    محبت نے دل ایجاد کیا

    دل نے خیمہ اور کشتیاں بنائیں

    اور دور دراز کے مقامات طے کیے

    خواجہ سرا نے مچھلی پکڑنے کا کانٹا ایجاد کیا

    اور سوئے ہوئے دل میں چبھو کر بھاگ گیا

    دل میں چبھے ہوئے کانٹے کی ڈور تھامنے کے لیے

    نیلامی ایجاد ہوئی

    اور

    جبر نے آخری بولی ایجاد کی

    میں نے ساری شاعری بیچ کر آگ خریدی

    اور جبر کا ہاتھ جلا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites