دوستی کا ہاتھ

علی سردار جعفری

دوستی کا ہاتھ

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    INTERESTING FACT

    چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے.... فراز) کے جواب میں

    تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیے

    مرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھ

    وہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہے

    مہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ

    خدا کرے کہ سلامت رہیں یہ ہاتھ اپنے

    عطا ہوئے ہیں جو زلفیں سنوارنے کے لیے

    زمیں سے نقش مٹانے کو ظلم و نفرت کا

    فلک سے چاند ستارے اتارنے کے لیے

    زمین پاک ہمارے جگر کا ٹکڑا ہے

    ہمیں عزیز ہے دہلی و لکھنؤ کی طرح

    تمہارے لہجے میں میری نوا کا لہجہ ہے

    تمہارا دل ہے حسیں میری آرزو کی طرح

    کریں یہ عہد کہ اوزار جنگ جتنے ہیں

    انہیں مٹانا ہے اور خاک میں ملانا ہے

    کریں یہ عہد کہ ارباب جنگ ہیں جتنے

    انہیں شرافت و انسانیت سکھانا ہے

    جئیں تمام حسینان خیبر و لاہور

    جئیں تمام جوانان جنت کشمیر

    ہو لب پہ نغمۂ مہر و فا کی تابانی

    کتاب دل پہ فقط حرف عشق ہو تحریر

    تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بردوش

    ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر

    ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر

    پھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Ali Sardar Jafri(Vol-2) (Pg. 530)
    • Author : Ali Ahmad Fatma
    • مطبع : Qaumi Council Barai Farog Urdu Zaban New Delhi (1927-2005)
    • اشاعت : 1927-2005

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY