پتھر کی زبان

فہمیدہ ریاض

پتھر کی زبان

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا

    یہی بلندی ہے وصل تیرا

    یہی ہے پتھر مری وفا کا

    اجاڑ چٹیل اداس ویراں

    مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں

    پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے

    ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن

    سنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر

    نکیلے پتھر

    جو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیں

    کہ میرے جیتے لہو سے سب آس پاس رنگین ہو گیا ہے

    مگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں

    اور ایک اونچی اڑان والے پرند کے ہاتھ

    تجھ کو پیغام بھیجتی ہوں

    تو آ کے دیکھے

    تو کتنا خوش ہو

    کہ سنگریزے تمام یاقوت بن گئے ہیں

    دمک رہے ہیں

    گلاب پتھر سے اگ رہا ہے

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    پتھر کی زبان فہمیدہ ریاض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY