زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!

    یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

    یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

    یہ کیسا نشہ ہے

    مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

    تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

    یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

    اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

    کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

    مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

    وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

    مجھے ایسا لگتا ہے

    تاریکیوں کے

    لرزتے ہوئے پل کو

    میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

    یہ پل ختم ہونے کو ہے

    اور اب

    اس کے آگے

    کہیں روشنی ہے

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    زبانوں کا بوسہ فہمیدہ ریاض

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY