خداؤں سے کہہ دو

کشور ناہید

خداؤں سے کہہ دو

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    جس دن مجھے موت آئے

    اس دن بارش کی وہ جھڑی لگے

    جسے تھمنا نہ آتا ہو

    لوگ بارش اور آنسوؤں میں

    تمیز نہ کر سکیں

    جس دن مجھے موت آئے

    اتنے پھول زمین پر کھلیں

    کہ کسی اور چیز پر نظر نہ ٹھہر سکے

    چراغوں کی لویں دیے چھوڑ کر

    میرے ساتھ ساتھ چلیں

    باتیں کرتی ہوئی

    مسکراتی ہوئی

    جس دن مجھے موت آئے

    اس دن سارے گھونسلوں میں

    سارے پرندوں کے بچوں کے پر نکل آئیں

    ساری سرگوشیاں جل ترنگ لگیں

    اور ساری سسکیاں نقرئی زمزمے بن جائیں

    جس دن مجھے موت آئے

    موت میری اک شرط مان کر آئے

    پہلے جیتے جی مجھ سے ملاقات کرے

    مرے گھر آنگن میں میرے ساتھ کھیلے

    جینے کا مطلب جانے

    پھر اپنی من مانی کرے

    جس دن مجھے موت آئے

    اس دن سورج غروب ہونا بھول جائے

    کہ روشنی کو میرے ساتھ دفن نہیں ہونا چاہئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    RECITATIONS

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    خداؤں سے کہہ دو کشور ناہید

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat dusht-e-qais main laila (Pg. 1213)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY