جشن آزادی

آزادی کے جذبے سے سرشارمنتخب اردو شاعری

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل  عظیم آبادی

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

ساحر لدھیانوی

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

علامہ اقبال

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

لال چند فلک

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

فراق گورکھپوری

وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے

مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں

چکبست برج نرائن

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

نامعلوم

اسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلان

اندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستان

جاوید اختر

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو

نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو

جعفر ملیح آبادی

یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں

کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

احمق پھپھوندوی

اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا

جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں

نامعلوم

ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن

اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا

والی آسی

وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے

ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے

جعفر ملیح آبادی

ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی

اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے

خورشید اکبر

نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز

یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی

نازش پرتاپ گڑھی

دکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے

بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے پیارا ہے

افسر میرٹھی

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

افتخار عارف

خوں شہیدان وطن کا رنگ لا کر ہی رہا

آج یہ جنت نشاں ہندوستاں آزاد ہے

امین سلونی

بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤ

دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ

لال چند فلک

وطن کی پاسبانی جان و ایماں سے بھی افضل ہے

میں اپنے ملک کی خاطر کفن بھی ساتھ رکھتا ہوں

نامعلوم

خدا اے کاش نازشؔ جیتے جی وہ وقت بھی لائے

کہ جب ہندوستان کہلائے گا ہندوستان آزادی

نازش پرتاپ گڑھی

کعبے کو جاتا کس لیے ہندوستاں سے میں

کس بت میں شہر ہند کے شان خدا نہ تھی

رند لکھنوی

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیم صبح وطن

یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

فیض احمد فیض

پھر دیار ہند کو آباد کرنے کے لئے

جھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئے

الطاف مشہدی

کہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانے

بنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانے

سراج لکھنوی

جوانو نذر دے دو اپنے خون دل کا ہر قطرہ

لکھا جائے گا ہندوستان کو فرمان آزادی

نازش پرتاپ گڑھی

ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں

اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم

نامعلوم

بیزار ہیں جو جذبہ سے

وہ لوگ کسی سے بھی محبت نہیں کرتے

نامعلوم

اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا

اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا

جعفر ملیح آبادی

اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلا دے

میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں

جاوید اکرم فاروقی

میں نے آنکھوں میں جلا رکھا ہے آزادی کا تیل

مت اندھیروں سے ڈرا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

انیس انصاری

تن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پر

راہ وطن پر اپنی جانیں لڑائے جاؤ

لال چند فلک

اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا

دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا

جعفر طاہر

وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردار آزادی

وطن کی پاسباں وہ تیغ جوہر دار آزادی

مخدومؔ محی الدین

سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں

تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں

برق دہلوی

کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا

تھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت

اختر انصاری اکبرآبادی