Ehsan Danish's Photo'

احسان دانش

1915 - 1982 | لاہور, پاکستان

بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں کے مقبول ترین شاعروں میں شامل، فیض احمد فیض کے ہم عصر

بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں کے مقبول ترین شاعروں میں شامل، فیض احمد فیض کے ہم عصر

تخلص : 'دانش'

اصلی نام : احسان دانش

پیدائش : 15 Feb 1915 | شاملی, ہندوستان

وفات : 22 Mar 1982 | لاہور, پاکستان

Relatives : تاجور نجیب آبادی (استاد)

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو

تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

نام احسان الحق، تخلص احسان اور دانش تھا۔ ۱۹۱۴ء میں کاندھلہ ، ضلع مظفر نگر میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن قصبہ باغپت ، ضلع میرٹھ تھا۔ چوتھی جماعت تک احسان دانش نے تعلیم حاصل کی۔مفلسی کی وجہ سے ان کے والدین چوتھی جماعت سے آگے تعلیم نہ دلاسکے۔ پندرہ سال کی عمر میں احسان دانش لاہور آگئے۔ یہاں انھوں نے مزدوری، چوکی داری، چپراسی اور باغ بانی کے فرائض انجام دیے۔ فرصت کے اوقات میں کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ دوران مطالعہ انھیں شعروسخن سے دل چسپی ہوگئی۔ تاجور نجیب آبادی سے اصلاح لینے لگے۔جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو ’’مکتبۂ دانش‘‘ کے نام سے اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کیا۔ ان کا سرمایۂ شعری زیادہ تر نظموں پر مشتمل ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے خطاب سے حکومت نے نوازا ۔ احسان دانش کو مذہب سے گہرا لگاؤ تھا۔ انھیں حج بیت اللہ اور روضۂ اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۲۲؍مارچ۱۹۸۲ کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ احسان دانش متعدد کتابوں کے مصنف تھے جن میں چند یہ ہیں:’’آتش خاموش‘‘، ’’نوائے کارگر‘‘، ’’گورستان‘‘،’’چراغاں‘‘، ’’زخم ومرہم‘‘، ’’درد زندگی‘‘، ’’حدیث خواب‘‘،’’ جادۂ نو‘‘، ’’نفیر فطرت‘‘، ’’عکس آئینہ‘‘، ’’غبار کارواں‘‘، ’’زنجیر بہاراں‘‘، ’’رموز غالب‘‘، ’’اردو مترادفات‘‘، ’’قاموس محاورات‘‘، ’’جہان دانش‘‘(خودنوشت حالات)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:58