noImage

مرزا اظفری

مرزا اظفری کے شعر

185
Favorite

باعتبار

ہم گنہ گاروں کے کیا خون کا پھیکا تھا رنگ

مہندی کس واسطے ہاتھوں پہ رچائی پیارے

ہم فراموش کی فراموشی

اور تم یاد عمر بھر بھولے

تیرے مژگاں کی کیا کروں تعریف

تیر یہ بے کمان جاتا ہے

کون کہتا ہے کہ تو نے ہمیں ہٹ کر مارا

دل جھپٹ آنکھ لڑا نظروں سے ڈٹ کر مارا

رفو جیب مجنوں ہوا کب اے ناصح

تو مر جائے گا اس کے سیتے ہی سیتے

یہ دیوانے ہیں محو دید دلبر

نہیں کچھ مانتے یاں کو نہ واں کو

اے مصور شتاب ہو کہ ابھی

اس کا نقشہ دھیان میں کچھ ہے

جلاؤ مارو درکارو بلا لو گالیاں دے لو

کرو جو چاہو ہم کس بات سے اکراہ رکھتے ہیں

بہہ چکا خون دل آنکھ تک آ پہنچا سیل

روئے جا اور بھی اے دیدۂ تر دیکھیں تو

ہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں

دیکھ آب دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر

ہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں

دیکھ اب یہ دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر

کس زمانے کی یہ دشمن تھی مری

اس محبت کا ہو منہ کالا میاں

کاکل نہیں لٹکتے کچھ ان کی چھاتیوں پر

چوکاں سے یہ کھلنڈرے گیندیں اچھالتے ہیں

دھانی جوڑے پہ ترے سانولے میں مرتا ہوں

مر بھی جاؤں تو کفن دیکھ کے کاہی دینا

ہے جانی تجھ میں سب خوبی پہ جاں سا

تو اک دم میں بچھڑ جاتا ہے مجھ سے

قسم مے کی مجھ بن ہے میرے لہو کی

جو ہم بن پیو تو ہمارا لہو ہے

شتابی اپنے دیوانے کو کر بند

مسلسل زلف سے کر یا نظر بند

جو آیا یار تو تو ہو چلا غش اے دوانے دل

اسی دم تجھ کو مرنا تھا بتا کیا تجھ کو دہاڑ آئی

تاک لاگی تری دختر سے ہماری اے تاک

آج شب جی میں ہے گھر تیرے یہ داماد رہے

اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں

بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا

بے غمی ترک علائق ہے سدا اظفریاؔ

جس کو دنیا سے علاقہ نہیں غم ناک نہیں

اظفریؔ غنچۂ دل بند اور آئی ہے بہار

سیر گل کو کہ یہ شاید بہ تکلف کھل لے

وہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ

ہم قلم ساں اس کے، سر کے بھل گئے

سونی گئی میں ہوئی یار سے مڈبھیڑ آج

پوچھو کوئی کس لئے منہ پہ کر اوجھل گیا

دل لیا تاب و تواں لے چکا جاں بھی لے لے

پاک کر ڈال بکھیڑا یہ سبھی جھنجھٹ کا

او عطارد زحل نحس سے ٹک مانگ مداد

بخت کا ماجرا لکھتا ہوں سیاہی دینا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI