فسادات پر منٹو کے منتخب افسانے

فسادات نے منٹو کو ذاتی

طور پر متاثر کیا تھا ۔منٹو نے غیر جانب داری سے حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہجرت کرنے کا عملی قدم اٹھایا تھا ۔ اس موضوع پر منٹو نے جو افسانے لکھےہیں ان میں حقائق اس قدر تلخ ہیں کہ اس وقت کے قاری نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھااور مقدمے تک چلے تھے ۔ذہن کو جھنجھوڑ دینے والے وہ افسانے آپ پڑھ کر فسادات کی سنگینی کو محسوس ضرور کریں گے ۔

5K
Favorite

باعتبار

ٹھنڈا گوشت

بے حس ہو چکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ ٹھنڈا گوشت ایک مرد کے جنسی جذبات سرد ہو جانے یا نفسیاتی طور پر نامرد ہو جانے کی کہانی ہے۔ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی پر ہاتھ صاف کرنے کے ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ لڑکی کو وہیں چھوڑ کر وہ ہوٹل میں اپنی داشتہ کلونت کے پاس جاتا ہے۔ کلونت کے لاکھ کوشش کے باوجود وہ خود کو جنسی طور پر تیار نہیں کر پاتا۔ جب وہ کلونت کو اپنے جنسی جذبات سرد ہوجانے کی کہانی سناتا ہے تو کلونت آگ بگولہ ہوجاتی ہے اور اسے خنجر گھونپ دیتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

کھول دو

امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔ صبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں

سعادت حسن منٹو

تماشا

دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے، جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاً فوقتاً کسی آنے والے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہیبت ناک سماں پیش کر

سعادت حسن منٹو

موذیل

عورت کے ایثار، جذبۂ قربانی اور محبت و ممتا کے ارد گرد بنی گئی کہانی ہے۔ موذیل ایک آزاد مزاج یہودی لڑکی ہے جو پابند وضع سردار ترلوچن کا خوب مذاق اڑاتی ہے لیکن وقت پڑنے پر وہ فساد زدہ علاقے میں جا کر ترلوچن کی منگیتر کو فسادیوں کے چنگل سے آزاد کراتی ہے اور خود فساد کا شکار ہو جاتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

گورمکھ سنگھ کی وصیت

سردار گورمکھ سنگھ کو عبد الحی جج نے ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ اسی کی احسان مندی میں عید کے دن وہ سیوئیاں لے کر آتا تھا۔ ایک برس جب فسادات نے پورے شہر میں قیامت برپا کر رکھی تھی، جج عبد الحی فالج کی وجہ سے بستر مرگ پر تھے اور ان کی جوان بیٹیی اور چھوٹا بیٹا حیران پریشان تھے کہ اسی خوف و ہراس کے عالم میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا سیوئیاں لے کر آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے پتا جی کا دیہانت ہو گیا ہے اور انہوں نے سیوئیاں پہنچانے کی وصیت کی تھی۔ گورمکھ سنگھ کا بیٹا جب واپس جانے لگا تو بلوائیوں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ اپنا کام کر آئے، اس نے کہا کہ ہاں، اب جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔

سعادت حسن منٹو

اللہ دتا

فساد میں لٹے پٹے ہوئے ایک ایسے گھر کی کہانی ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے اور پھر اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کو بہو بنا کر لاتا ہے تو اس سے بھی زبردستی کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب اس کی بیٹی کو پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے بھائی سے طلاق دلوا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنی سوت نہیں دیکھ سکتی۔

سعادت حسن منٹو

خدا کی قسم

تقسیم کے دوران اپنی جوان اور خوبصورت بیٹی کے گم ہو جانے کے غم میں پاگل ہو گئی ایک عورت کی کہانی۔ اس نے اس عورت کو کئی جگہ اپنی بیٹی کو تلاش کرتےہوئے دیکھا تھا۔ کئی بار اس نے سوچا کہ اسے پاگل خانے میں داخل کرا دے، پر نہ جانے کیا سوچ کر رک گیا تھا۔ ایک روز اس عورت نے ایک بازار میں اپنی بیٹی کو دیکھا، لیکن بیٹی نے ماں کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اسی دن اس شخص نے جب اسے خدا کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ اس کی بیٹی مر گئی ہے، تو یہ سنتے ہی وہ بھی وہیں ڈھیر ہو گئی۔

سعادت حسن منٹو

پڑھیے کلمہ

لا الٰہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ۔۔۔ آپ مسلمان ہیں، یقین کریں میں جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا۔ پاکستان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ قائداعظم جناح کے لیے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں اس معاملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ

سعادت حسن منٹو

رام کھلاون

کھٹمل مارنے کے بعد میں ٹرنک میں پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ سعید بھائی جان کی تصویر مل گئی۔ میز پر ایک خالی فریم پڑا تھا۔۔۔ میں نے اس تصویر سے اس کو پر کردیا اور کرسی پر بیٹھ کر دھوبی کا انتظارکرنے لگا۔ ہر اتوار کو مجھے اسی طرح انتظار کرنا پڑتا تھا

سعادت حسن منٹو
بولیے