منٹو بنام ستیارتھی (دو افسانہ نگاروں کے بیچ تکرار )

منٹو اورستیارتھی, دونوں

اردو کہانیاں پڑھنے والوں کے بیچ گھریلونام ہیں۔ لیکن کیا ہوتا ہے جب دو جانےمانے افسانہ نگارایک دوسرے کے خلاف لکھتے ہیں؟ بھلے ہی یہ کہانیاں ذاتی طورپرایک دوسرے پر تہمت لگاتی نظرآتی ہوں لیکن بڑے پیمانے پریہ کہانیاں دونوں افسانہ نگاروں کے مثالی شخصیت ہونے کے فرق کو بھی واضح کرتی ہیں ۔ منٹو اورستیارتھی کا ایک دوسرے کے بارے میں کیا کہنا تھا، یہ جاننے کے لیے یہ دونوں کہانیاں پڑھیں۔

176
Favorite

باعتبار

ترقی پسند

طنز و مزاح کے پیرایہ میں لکھا گیا یہ افسانہ ترقی پسند افسانہ نگاروں پر بھی چوٹ کرتا ہے۔ جوگندر سنگھ ایک ترقی پسند افسانہ نگار ہے جس کے یہاں ہریندر سنگھ آکر پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور مسلسل اپنے افسانے سنا کر بو رکرتا رہتا ہے۔ ایک دن اچانک جوگندر سنگھ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حق تلفی کر رہا ہے۔ اسی خیال کے تحت وہ ہریندر سے باہر جانے کا بہانہ کرکے بیوی سے رات بارہ بجے آنے کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن جب رات میں جوگندر اپنے گھر کے دروازہ پر دستک دیتا ہے تو اس کی بیوی کے بجائے ہریندر دروزہ کھولتا ہے اور کہتا ہے جلدی آ گئے، آو، ابھی ایک افسانہ مکمل کیا ہے، اسے سنو۔

سعادت حسن منٹو

نئے دیوتا

ترقی پسند ادیب نفاست حسن نے اپنے گھر کچھ ہم خیال ادیبوں کی محفل جمع کی ہے۔ نفاست حسن جس محکمے میں نوکری کرتے ہیں وہ محکمہ ان کے اصولوں کے برعکس ہے۔ کھانے کے دوران ادب پر بات شروع ہوتی ہے۔ مہمانوں میں شامل ایک ادیب انگریزی مصنف سمرسیٹ مام کو اپنا پسندیدہ ادیب بتاتے ہیں۔ میزبان بھی سمر سیٹ مام سے اپنی دیوانگی کا اظہار کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اس بات کو لے کر کچھ نوک جھونک شروع ہوتی ہے اور اس بحث میں سمرسیٹ مام ان کا نیا دیوتا بن کر سامنے آتا ہے۔

دیوندر ستیارتھی

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے