سیف الدین سیف کا تعارف
تخلص : 'سیف'
اصلی نام : سیف الدین
پیدائش : 20 Mar 1922 | امرتسر, پنجاب
وفات : 12 Jul 1993 | لاہور, پنجاب
LCCN :n97940392
آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے
ممتاز شاعر، نغمہ نگار، فلم ساز، ہدایت کار اور لاہور کے مشہور فلمی ادارے "رہنما فلمز" کے بانی سیف الدین سیف کی پیدائش 20 مارچ 1922ء کو امرتسر میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام خواجہ معراج الدین تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم امرتسر ہی میں ہوئی۔ بعد میں انہوں نے گورنمنٹ ایم اے او کالج، لاہور میں تعلیم حاصل کی، لیکن سیاسی سرگرمیوں، خصوصاً خاکسار تحریک میں شمولیت کی وجہ سے انہیں امتحانات میں شرکت سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً انہوں نے تعلیم مکمل کیے بغیر ہی ادب اور شاعری کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ سیف الدین سیف کا رجحان شروع ہی سے شاعری کی طرف تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے ہی انہوں نے شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کر دیا تھا، لیکن اُس دور میں لکھی گئی زیادہ تر فلمیں سیاسی حالات کی وجہ سے ریلیز نہ ہو سکیں۔
تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کرکے لاہور میں مقیم ہو گئے، جہاں انہوں نے بطور مکالمہ نگار اور نغمہ نگار فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1954ء میں انہوں نے "رہنما فلمز" کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک اہم ادارہ بن گیا۔ بطور نغمہ نگار ان کی پہلی فلم "ہچکولے" (1949ء) تھی۔ اس کے بعد انہوں نے "امانت" (1950ء)، "نویلی" (1952ء)، "غلام" اور "محبوبہ" (1953ء) جیسی کامیاب فلموں کے لیے گیت تحریر کیے۔ 1957ء میں فلم "سات لاکھ" کے ذریعے انہوں نے بطور مصنف، پروڈیوسر اور ہدایت کار اپنی فنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ یہ پاکستان کی پہلی فلم بنی جسے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1959ء کی تاریخی فلم "کرتار سنگھ" ان کے فلمی سفر کا سنگِ میل ثابت ہوئی، جس میں 1947ء کی تقسیم کے خونی واقعات کو حقیقت کے قریب پیش کیا گیا۔ اس فلم کے بعد وہ پاکستان کے نمایاں فلم سازوں میں شمار کیے جانے لگے۔ سیف الدین سیف نے کئی لازوال فلمی نغمے تحریر کیے۔ ان میں فلم "گمنام" (1954ء) کا مشہور نغمہ "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے" اور فلم "قاتل" (1955ء) کے گیت خاص طور پر مقبول ہوئے۔ ان کے نغموں کو نور جہاں، مہدی حسن اور نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فنکاروں نے اپنی آواز دی۔
انہوں نے غزل اور نظم، دونوں اصناف میں خوب تخلیق کی۔ ان کے دو مشہور مجموعۂ کلام "خمِ کاکل" اور "کفِ گل فروش" ہیں۔ 12 جولائی 1993ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ انہیں ماڈل ٹاؤن قبرستان، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی حیات و خدمات پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ "شاعرِ کج کلاہ" روبینہ شائستہ نے تحریر کیا، جو ان کی فکری اور فنی عظمت کا ایک معتبر حوالہ مانا جاتا ہے۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n97940392