Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shamim Anwar's Photo'

شمیم انور

1948 - 2019 | کولکاتا, انڈیا

جدید شاعری کی ایک معتبر آواز

جدید شاعری کی ایک معتبر آواز

شمیم انور کا تعارف

اصلی نام : شمیم انور

پیدائش : 01 Jan 1948 | کولکاتا, مغربی بنگال

وفات : 20 Sep 2019 | کولکاتا, مغربی بنگال

LCCN :n89114014

شمیم انور کی ولادت 01 جنوری 1948ء کو مٹیابرج، کولکاتامیں ہوئی۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر ایم اے شکور ہے اور اہلیہ کا نام یاسمین اختر ہے جو خود بھی معروف افسانہ نگار ہیں۔ شمیم انور نے بی اے (آنرز)، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ پیشہ درس و تدریس تھا۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی میں لکچرر تھے۔ شاعری میں مٹیابرج کے استاد شاعر ثمر آروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ شمیم انور نے 1964 سے شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی دو کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ ایک شعری مجموعہ ”کبڑی بلندیاں“ جو 1974ء میں شائع ہوا اور دوسری کتاب کا نام ”جدید شاعری کا سفر“ ہے جو ان کا  پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔

شمیم انور کی کتاب ”اجنبی خدا“ پر مشہور فکشن نگار، صحافی، پدم شری، ہدایت کار، مکالمہ نویس، ”شری420“ اور "میرا نام جوکر“ جیسی فلموں کے لیے مشہور خواجہ احمد عباس اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
”میں ”اجنبی خدا“ کی نظموں کو بھی ترقی پسند جدید ادب کی ایک معنی خیز آواز سمجھتا ہوں جو اپنے مواد (Content) کے اعتبار سے باغیانہ ہے، انقلابی ہے اور اپنی ہیئت (Form) کے اعتبار سے بھی ”نئی“ ہے، ”چونکا دینے والی“ ہے، ”منتشر“ ہے مگر جو پکار پکار کر اعلان کر رہی ہے کہ پرانی دنیا، پرانی شاعری، پرانی اخلاقی قدریں مرچکی ہیں۔ ان کی لاش تک سڑ چکی ہے۔ اس لحاظ سے شمیم انور کی اکثر نظموں میں ”ترقی پسند“ کے انقلابی تصورات اور ”جدیدیت“ کی باغیانہ ہیئت (Form) کا ایک انوکھا امتزاج ملتا ہے جو نوجوان دانشوروں کی ایک پوری نسل کے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔“
”شمیم انور جدید شاعر ہونے کے باوجود غزل کے میدان میں بھی گھوڑ ے دوڑانے سے نہ گھبراتے ہیں، نہ شرماتے ہیں مگر یہاں بھی ان کا سماجی اور نظریاتی شعور ان کو گل و بلبل والی روایتی شاعری کے کھوکھلے تشبیہہ اور استعاروں سے بچاتا ہے۔“

شمیم انور 20 ستمبر 2019ء کو انتقال کر گئے۔

Recitation

بولیے