ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو

مرزا غالب

ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۵۵ء

    ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو

    رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند

    جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست

    سبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند

    غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ

    بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند

    بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں

    ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند

    یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے

    لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 454)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY