مژدہ اے رہروان راہ سخن

مرزا غالب

مژدہ اے رہروان راہ سخن

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۴۹

    مژدہ اے رہروان راہ سخن

    پایہ سنجان دست گاہ سخن

    طے کرو راہ شوق زودا زود

    آن پہنچی ہے منزل مقصود

    پاس ہے اب سواد اعظم نثر

    دیکھیے چل کے نظم عالم نثر

    سب کو اس کا سواد ارزانی

    چشم بینش ہو جس سے نورانی

    یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا

    جلوۂ مدعا نظر آیا

    ہاں یہی شاہراہ دہلی ہے

    مطبع بادشاہ دہلی ہے

    منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ

    گل و ریحان و لالہ رنگا رنگ

    ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار

    بار ور جس کا سرو گل بے خار

    نہیں اس کا جواب عالم میں

    نہیں ایسی کتاب عالم میں

    اس سے انداز شوکت تحریر

    اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر

    مرحبا طرز نغز گفتاری

    حبذا رسم و راہ نثاری

    نثر مدحت سراے ابراہیم

    ہے مقرر جو اب پئے تعلیم

    اس کے فقروں میں کون آتا ہے

    کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے

    تین نثروں سے کام کیا نکلے

    ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے

    ورزش قصہ کہن کب تک

    داستان شہ دکن کب تک

    تا کجا درس نثر ہاے کہن

    تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن

    تھے ظہوری و عرفی و طالب

    اپنے اپنے زمانے میں غالب

    نہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہے

    اسد اللہ خاں غالب ہے

    قول حافظ کا ہے بجا اے دوست

    ہر کر اپنج روز نوبت اوست

    کل وہ سرگرم خودنمائی تھے

    شمع بزم سخن سرائی تھے

    آج یہ قدر دان معنی ہے

    بادشاہ جہان معنی ہے

    نثر اس کی ہے کارنامۂ راز

    نظم اس کی نگار نامۂ راز

    دیکھو اس دفتر معانی کو

    سیکھو آئین نکتہ دانی کو

    اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا

    سینہ گنجینۂ گہر ہو گا

    ہو سخن کی جسے طلب گاری

    کرے اس نسخے کی خریداری

    آج جو دیدہ ور کرے درخواست

    تین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست

    منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب

    زر قیمت کا ہو گا اور حساب

    چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت

    اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت

    جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے

    احسن اللہ خاں کے گھر بھیجے

    وہ بہار ریاض مہر و وفا

    جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما

    میں جو ہوں در پے حصول شرف

    نام عاصی کا ہے غلام نجف

    ہے یہ القصہ حاصل تحریر

    کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر

    چشمۂ انطباع جاری ہے

    ابتداے ورق شماری ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 407)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY