aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",cVlO"
آ رہا تھا میں کئی کوچوں سے ٹھوکر کھا کرایک آواز نے روکا مجھ کوکسی مینار سے نیچے آ کراللہ اکبر اللہ اکبرہوا دل کو یہ گماںکہ یہ پرجوش اذاںموت سے دے گی اماںپھر تو پہنچا میں جہاںمیں نے دہرائی کچھ ایسے یہ اذاںگونج اٹھا سارا جہاںاللہ اکبر اللہ اکبراسی آواز میں اک اور بھی گونجا اعلانکل من علیہا فاناک طرف ڈھل گیا خورشید جہاں تاب کا سرہوا فالج کا اثرپھٹ گئی نس کوئی شریانوں میں خوں جم سا گیاہو گیا زخمی دماغایسا لگتا تھا کہ بجھ جائے گا جلتا ہے جو صدیوں سے چراغآج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گایہ سمندر جو بڑی دیر سے طوفانی تھاایسا تڑپا کہ مرے کمرے کے اندر آیاآتے آتے وہ مرے واسطے امرت لایااور لہرا کے کہاشیو نے یہ بھجوایا ہے لو پیو اورآج شیو علم ہے امرت ہے عملاب وہ آساں ہے جو دشوار تھا کلرات جو موت کا پیغام لیے آئی تھیبیوی بچوں نے مرےاس کو کھڑکی سے پرے پھینک دیااور جو وہ زہر کا اک جام لیے آئی تھیاس نے وہ خود ہی پیاصبح اتری جو سمندر میں نہانے کے لیےرات کی لاش ملی پانی میں
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
نہ قیل و قال سے مطلب نہ شغل اشغال سے مطلبمراقب اپنے رہتے ہیں کا کر اپنی گردن ہم
چھوڑ دیتی تکلم کو ملائم قیل و قالعلم کا حد سے گزر جانا ہے توہین جمال
جسارت سخن شاعراں سے ڈرنا کیاغریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
चलोچَلو
اچھا بہتر
चलो भीچَلو بھی
چھوڑو ، جانے دو ، دور ہوجاؤ ، چلو، بس اچھا ہوا.
colecole
ہر طرح کی گوبھی
cloycloy
بے رغبت کرنا
ناگزیر قیل و قال
دتا تریہ کیفی
دیگر
مطالبہ فطرۃ (قیل و قال)
محمد فاروق
قال و مقال
عبد اللہ سلمان
تنقید
شاعر غضب کے ہوتے ہیں ہرگز نہ چوکتےموقع نہیں دہن میں ترے قیل و قال کا
اے ادب نا آشنا یہ بھی نہیں تجھ کو خیالننگ ہے بزم سخن میں مدرسے کی قیل و قال
بے اثر کر گیا ہے واعظ کوہر گھڑی قیل و قال میں رہنا
کل بازار میں بھیا شافیپینے آئے ٹھنڈی کافیاک دو پیکٹ بسکٹ کھائےٹھونس گئے دو درجن ٹافیآلو چھولے کھا کر بولےبرفی ایک کلو ہے کافیامی جی کی بات نہ مانیابو سے کی وعدہ خلافیایسا کھٹکا پیٹ کا مٹکااللہ معافی اللہ معافیگڈو کا بھی حال سنائیںدودھ پئیں نہ انڈے کھائیںپھل ترکاری ایک نہ بھائےغصے میں بس ہونٹ چبائیںدیکھ کے دسترخوان پہ مچھلیپاؤں پٹختے بھاگے جائیںچاول روٹی گوشت کی بوٹیدیکھیں تو نخرے دکھلائیںدن کا ہو یا رات کا کھاناروئیں پیٹیں شور مچائیںدبلے پتلے روکھے سوکھےبات کرو تو لڑنے آئیںاتنے ہلکے پھلکے سے ہیںفین چلے تو اڑ ہی جائیں
آپ ہی آپ ہے جہاں دیکھوکل شی محیط پیدا ہے
گلال عبیر سے کتنے بھرے ہیں چوپائےتمام ہاتھوں میں گڑوے بھی رنگ کے لائےکوئی کہے ہے کسی سے کہ ہم بھی لو آئےتو اس سے کہتا وہ ہنس کر کہ آ مرے جائےہنسی خوشی کا ہے قال و مقال ہولی میں
پہلے تو قیل و قال میں ہوتا نہیں تھا میںپھر یوں ہوا کہ حرف سے باہر نہیں ہوا
دریں گمان کدہ کل من علیھا فانبس اک چھلاوا مرا عشق، ایک چھب تری یاد
آزاد جنس دل کو فقط اک نظر پہ بیچسودا گراں نہیں نہ بہت قیل و قال کر
ہڑتال کرنے سے نہ ٹلو میں نشے میں ہوںاے غیر ملکیوں کی کلو میں نشے میں ہوںمیرا جلوس لے کے چلو میں نشے میں ہوںپھر خاک سب کے منہ پہ ملو میں نشے میں ہوں''یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں''''اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں''
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books