aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "تغیرات"
اس کوٹھڑی کا دروازہ بند پاتا تو جا کر کواڑ کھٹکھٹاتا کہ شاید انا اندر چھپی بیٹھی ہو۔ صدر دروازہ کھلتے سنتا تو انا انا کہہ کر دوڑتا۔ سمجھتا کہ انا آگئی۔ اس کا گدرایا ہوا بدن گھل گیا۔ گلاب کے سے رخسار سوکھ گئے۔ ماں اور باپ دونو ں...
تغیرات کے عالم میں زندگانی ہےشباب فانی نظر فانی حسن فانی ہے
ترے پاؤں چھوتی وہ ساعتیں وہ تغیرات کی سبقتیںکسی پل کا جیسے کہیں بھی کوئی سرا نہ ہو کہیں یوں نہ ہو
تجلیات کی تصویر کھینچ کر دل میںتصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں
شاعری ،یا یہ کہاجائے کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔
تصویر پر شاعری معانی وموضوعات کے بہت سے علاقوں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ تصویر کو اس کی خوبصورتی، خاموشی، تأثرات کی عدم تبدیلی اور بہت سی جہتوں کے حوالے سے شاعری میں استعمال کیا گیا ہے ۔ تصویر مہربان بھی ہے اور نامہربان بھی ۔ ایک طرف تو وہ کسی اصلی چہرے کا بدل ہے دوسری طرف اس میں دیکھنے والے کی تمام تر دلچسپی اور توجہ کے باوجود کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیں ہے ۔ اس لئے تصویر دور ہونے اور قریب ہونے کے بیچ ایک عجیب کشمکش پیدا کرتی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
ہندوستان کا نصاب درس اور اس کے تغیرات
حکیم سید عبدالحئی
نصاب
مجموعہ تغیرات ہند
نامعلوم مصنف
اقبال کی تیرہ نظمیں
اسلوب احمد انصاری
شاعری تنقید
وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
حسن رضوی
شرح شکوہ جواب شکوہ
علامہ اقبال
نظم
اقوال زریں
آباد احمد فاروقی
تاثرات
ترغیبات جنسی
نیاز فتح پوری
جنسیات
ترغیبات جنسی یا شہوانیات
تحقیقات و تاثرات
سید رضوان علی ندوی
مضامین
بیاض سحر
بیگم شیخ تراب علی
قصہ / داستان
الہلال کے تبصرے
محمود الٰہی
مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ
محمد حسن
تنقید
اردو کے تیرہ افسانے
اطہر پرویز
افسانہ
سرسید احمد خاں نے انسان اور انسانی تہذیب کے بارے میں اب سے سوسال پیشتر ایسی معقول باتیں کہی تھیں جو آج بھی سچی ہیں اور جن پر غور کرنے سے تہذیب کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ مثلاً سرسید کہتے تھے کہ ’’انسان کے افعال...
بعض علماء کا خیال ہے کہ آسام کے بعض قبائل اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور قدیم کھاسی قبیلے ان کے مورث اعلیٰ تھے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھاسی منگولی نسل کے ہوں اور انہوں نے ہندوستان کے اس علاقے میں پہنچ کر آسٹرک زبان اختیار...
آپ غور فرمائیں کہ یہ شرائط میں نے اپنی مرضی سے نہیں عائد کیے ہیں۔ ذوق اور شعرفہمی کے توام تصورات کا تقاضا یہی ہے کہ صاحب ذوق اور شعرفہم ہو تو ایسا ہو، لیکن میں نے جو شروع میں کہا ہے کہ صحیح معنی میں صاحب ذوق قاری کا...
تغیرات جہاں دل پہ کیا اثر کرتےہے تیری اب بھی وہی شکل ہو بہ ہو مجھ میں
علوم وفنون کی پیدائش اور ان کی ابتداکی جستجو، انسان کو تاریخ کے ان دھندلکوں میں لے جاتی ہے، جہاں ذہن کے لئے راستہ صاف نہیں ہوتا، اصول اور ضوابط رہنمائی نہیں کرتے اور قیاس یا ناقص علم کی روشنی صرف اتنا بتاتی ہے کہ کشاکش حیات نے نہ صرف...
بنیادی سوالات اٹھانے کی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ کوئی بھی علمی کارروائی کسی فلسفیانہ یا نظریاتی اساس (یا اگر واضح اساس نہیں تو مضمر تصورات) کے بغیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ چونکہ ہر نظریہ یا فلسفہ اصلاً او ر اصولاً، ’’کیوں‘‘ اور’’کس لیے‘‘ سے بحث کرتا ہے،...
یہاں ترازو پر تولنے اور عقل میں آنے کاتذکرہ جس طرح کیا گیا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ یہ تعلق محض ایک میکانکی شکل میں نمایاں ہوگا۔ ایسا نہیں ہے، متحرک زندگی میں ادب جس کا آئینہ ہے یہ تعلق میکانکی ہو ہی نہیں...
ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائناتدیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کچھ اور ہے
یہاں تک کہ لکھنؤ کی خاک سے اٹھنے والے عزیز لکھنوی نے غالب کی تقلید کو اپنے لیے طرۂ امتیاز جانا، حالانکہ حالی کی تمام تنقید لکھنؤ کی تقریباً پوری شاعری کی نفی کرتی تھی اور لکھنؤ کی تقریباً تمام شاعری غالب کے تقریباً پوری شاعری کی نفی کرتی تھی۔...
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books