aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "यही"
اوم پرکاش یتی
شاعر
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیںیہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھےتو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتامجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
روسی ادب کے اردو تراجم یہاں پڑھیں، اس صفحہ پر چنندہ روسی تراجم دستیاب ہیں، جنہیں ریختہ نے اپنے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
यहीیَہی
یہ ہی، خاص کر یہ (خصوصیت ظاہر کرنے کے لیے)
यहींیہیں
اسی جگہ، اسی مقام پر، اِسی دُنیا میں، اِسی جہان میں
यहीं कीیَہِیں کی
اسی مقام یا شہر کی / کے ۔
यहीं केیَہِیں کے
حاصل یہی
حسن کمال
مجموعہ
یہاں تک روشنی آتی کہاں تھی
شارق کیفی
غزل
Ye Hai Meri Talash
عبداللطیف شوق
یہ باتیں ہماریاں
شکیل الرحمن
یہ زندگی کتنی حسین ہے
فلمی نغمے
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی
ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
حاصل کن ہے یہ جہان خرابیہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیاتم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہےکس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہےمجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میںکہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books