عمر گزرے گی امتحان میں کیا

جون ایلیا

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    عمر گزرے گی امتحان میں کیا

    داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

    میری ہر بات بے اثر ہی رہی

    نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

    مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

    یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

    اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں

    ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

    خود کو جانا جدا زمانے سے

    آ گیا تھا مرے گمان میں کیا

    شام ہی سے دکان دید ہے بند

    نہیں نقصان تک دکان میں کیا

    اے مرے صبح و شام دل کی شفق

    تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا

    آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

    دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت

    خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

    وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے

    اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

    یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو

    کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

    ہے نسیم بہار گرد آلود

    خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

    یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

    ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites