aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba-zabaan-e-khud"
لرزاں و جھلسی تازگیبزبان خود مستفتی ہوئی
کل نظیرؔ اس نے جو پوچھا بزبان پنجابنیہ وچ مینڈی اے کی حال تسادا وے میاں
حدیث دل بہ زبان نظر بھی کہہ نہ سکاحضور حسن بڑھی اور بے بسی میری
کبھی ایک بار بھی تو مرا تذکرہ چمن میںبہ زبان گل نہ ہوتا بہ زبان خار ہوتا
چمک اپنی آنکھوں میں لاتے ہوئےبا زبان خموشی یہ مجھ سے کہا تھا
میر 18ویں صدی کے جدید شاعر ہیں ۔اردو زبان کی تشکیل و تعمیر میں بھی میر کی خدمات بیش بہا ہیں ۔خدائے سخن میر کے لقب سے معروف اس شاعر نے اپنے بارے میں کہا تھا میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی۔ ریختہ ان کے 20 معروف و مقبول ،پسندیدہ اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے ۔ ان اشعار کا انتخاب بہت سہل نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی میر کے کئی مقبول اشعار اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی رائے کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت آپ کے پسندیدہ شعر کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
بزبان اردو
شیخ غلام حیدر
فغان سیّد بزبان سیّد
سید مبشر علی
عظمت قرآن
اسرار احمد
نسخہ زینۃ الخیل بزبان اردو
منشی محمد مہدی
بذات خود
جمیل انصاری
شاعری
ایاز قدر خود بشناس
مولوی محمد شمس الدین
زلیخا بزبان اردو
ملا عبدالرحمان جامی
مثنوی
آزادی کے بعد اردو زبان و ادب
ڈاکٹر سید عبد الباری
ترجمۂ مخزن الادویہ بزبان اردو
مولوی محمد نور کریم
ترجمہ مخزن الادویہ بزبان اردو
مطبوعات منشی نول کشور
تنبیہ زبان دراز بجواب افشائے راز
سید ناصر علی اٹاوی
اسلامیات
حیات انبیائے کرام بزبان قرآن
نگہت نذیر
میخانہ تہ حرف
تاباں نقوی امروہوی
تحقیق
1947 کے بعد فارسی زبان و ادب اور پروفیسر نذیر احمد
سید رضا حیدر
مقالات/مضامین
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہاک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
پوچھے گلزارؔ سے ہے وہ بہ زبان سوسنتم کہاں بزم میں آئے ہو زباں دانوں کی
کیا تا بہ زباں آئے دل زار کی آوازبیمار کے مانند ہے بیمار کی آواز
زباں سے کچھ نہ کہنا باوجود تاب گویائیکھلی آنکھوں سے بس منظر بہ منظر سوچتے رہنا
مری گفتگو میں وہ زور تھا کہ سخن شناس تھے دم بخودمگر ان کی محفل ناز میں میں زبان تک نہ ہلا سکا
مایوس خود بہ خود دل امیدوار ہےاس گل میں بو خزاں کی ہے رنگ بہار ہے
بذات خود اب تو نہ تکلیف فرماتصور ہی رہنے دے تشریف فرما
جسم خاکی میں جس طرح جاں ہےاس طرح خانہ ہم پہ زنداں ہے
بزعم خود کہیں خود سے ورا نہ ہو جاؤںخدا نخواستہ میں بھی خدا نہ ہو جاؤں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books