aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baa-sad"
بی۔ آر سود
مصنف
ف ص ب بنت خواجہ احمد حسن
بصد شکوہ بصد آن بان نکلے گیہمارے ساتھ زمانے کی جان نکلے گی
بصد خلوص بصد احترام کرتے چلوبزرگ جب بھی ملیں تم سلام کرتے چلو
بصد خلوص بصد احترام لکھ دیناتم ان کو خط میں ہمارا سلام لکھ دینا
بصد خلوص بصد اہتمام ہوتی ہےسخن کے نام پہ حجت تمام ہوتی ہے
بصد خلوص بصد احترام کہتا ہےنئی صدی تجھے شاعر سلام کہتا ہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
پابلو نیرودا نے بجا طور پر کہا تھا، محبت مختصر ہوتی ہے اور بھول جانا بہت طویل۔ ان کی نظموں کے مشہورمجموعے سے متاثر، ہم آپ کو محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے دکھوں اور مایوسی کے یہ منتخب گیت پیش کرتے ہیں۔
का साکا سا
like, resembling
बादباد
سنسکرت, فارسی
وہ متحرک اور لطیف عنصر یا مرکب گیس جو کرۂ ارض کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، ہوا
बा'दبَعْد
عربی
موخر زمانہ، پیچھے کا دور
badbad
بد
غالب بہ صد انداز
برجیندرا سیال
گفتار بے صدا
رفعت ملك
دیگر
پند بے سود
صفی اورنگ آبادی
نظم
بےسر کی فوج
ابن سعید
بے صدا بستیاں
جاوید منظر
مجموعہ
بچوں میں جرائم پسندی
نامعلوم مصنف
بڑھاپا اور اس کا سد باب
حکیم محمد اقبال حسین
ساز رنگ وبو
محمد ارشد اعظمی
تیغ فقیر بر گردن شریر حربہ سیفی بر سر کعفی
مولوی محمد حسین
مرثیہ
میر خلیق
خضر شباب یا عیاشی کا سدباب
منشی ہادی حسین ہادی
معاشرتی
قرآن کی معنوی تحریف اور انکا حدیث کے فتنے کا سد باب
پیر غلام دستگیر نامی
اسلامیات
بسلسلہ تقریبات صد سالہ جشن غالب
سید رغیب حسین
سدباب ذریعہ
گل صد رنگ و بو
جمشید قمر
انتخاب
ہم نے بصد خلوص پکارا ہے آپ کواب دیکھنا ہے کتنی کشش ہے خلوص میں
کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترامفرمانرواے کشور پنجاب کو سلام
ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخارسچی زمیں پہ کھینچتا ہے جھوٹ کا حصار
بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھشمع سے ربط بڑھا شمع کی تنویر نہ دیکھ
تیرا سودائی ترے پاس بصد عجز و نیازداغ دل اپنے دکھانے کو چلا آیا تھا
جبینوں کو بصد تسلیم خم دیکھا گیا ہےبہت نا مطمئن آنکھوں میں نم دیکھا گیا ہے
ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیاتجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیا
کہتے ہیں بصد ناز مرا نام نہ لوکیسے ہیں یہ انداز مرا نام نہ لو
بصد خلوص بطرز نصاب پڑھ ڈالیںکتاب عشق کا ہر ایک باب پڑھ ڈالیں
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books