aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baar-baar"
دربار عالیہ مرشدآباد شریف، پیشاور
ناشر
نیلی بار پبلی کیشنز
مسعود بریزیدین
مصنف
عبدالبر اثری فلاحی
برخوردار بن محمود ترکمان فراہی ممتاز
منیجر بر اعظم بک ایجنسی، مرادآباد
شاعر
برصغیر پبلیکشنز، ملتان
بشیر بدر
born.1935
ناز بٹ
بدر واسطی
اسنی بدر
born.1971
محمد یونس بٹ
born.1962
مرزارضا برق ؔ
1790 - 1857
میرا بائی
نعمان بدر
born.1991
بار بار جیتے ہیں بار بار مرتے ہیںیوں وفا کی دنیا میں اپنے دن گزرتے ہیں
قاصد ترے بار بار آئےایک ہفتہ میں تین چار آئے
وعدہ کیوں بار بار کرتے ہوخود کو بے اعتبار کرتے ہو
آپ کرتے ہیں بار بار نہیںہم کو ہاں کا بھی اعتبار نہیں
دھوکے کھاتا رہا بار بار آدمیپھر بھی کرتا رہا اعتبار آدمی
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
امداد علی بحر کے 20 منتخب شعر
बात بات
سنسکرت
لفظ، بول، کلمہ، فقرہ، جملہ، گفتگو، قول
बाट باٹ
رک : ٹھاٹ باٹ جس کا یہ جزو دوم ہے
बार بار
سنسکرت, فارسی, ہندی
مرتبہ، دفعہ، نوبت
बै'ई بَیعی
فارسی
بیع سے منسوب : بیچنے کا، بیچا ہوا، بیچا جانے والا
بار بار
گوہر شیخ پوروی
مجموعہ
باد بان
فلمی نغمے
بن باس
ناصر شہزاد
کوثر پروین
افسانہ
بات بات تازگی
ثاقب ساہی
نعت
بڑی بڑی آنکھیں
اوپندر ناتھ اشک
ناول
تحفۂ شہیم
محمد مصاحب علی خان
طلسم گوہر بار
سید منیر
داستان
اساس کار و بار
ایس۔ آر۔ طرزی
دیگر
برگردن راوی
طارق کفایت
برآرندہ حاجات
جے گوپال لال
در آمدی بر اقتصاد اسلامی
نامعلوم مصنف
اسلامیات
ترک اسلام بر ترک اسلام
ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری
برگ و بار
امن لکھنوی
اسلام اور عورت
مولوی محمد حشمت علی
بار بار روندا گیا احساسکچلا گیا جذبہ
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے
کیوں چمک اٹھتی ہے بجلی بار باراے ستم گر لے نہ انگڑائی بہت
صحرا سے بار بار وطن کون جائے گاکیوں اے جنوں یہیں نہ اٹھا لاؤں گھر کو میں
اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئےوہ زندگی جو ترے شہر میں گزار آئے
بے سبب بار بار آتی ہےیاد بے اختیار آتی ہے
آتی ہے بات بات مجھے بار بار یادکہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
آج وہ بار بار یاد آیااور بے اختیار یاد آیا
آ کہ دو چار دن کی زندگی ہےکوئی آتا ہے بار بار کہاں
منتیں بار بار کرتا ہوںآپ کو شرمسار کرتا ہوں
کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بارکھو دیا جھوٹے نے اپنا اعتبار
فریب کھانا نہیں بار بار چیختا ہےندی کی تہ سے کوئی ریگزار چیختا ہے
ضبط کر آہ بار بار نہ کرغم الفت کو شرمسار نہ کر
بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھےدکھائی دیتا ہے پتھر کے آر پار مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books