aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bahaar-e-naqsh-e-paa"
انجمن بہارادب، آگرہ
ناشر
مطبع بہار کشمیر، لکھنؤ
مطبع بہار ہند، بریلی
ادارئہ بہار سخن، حیدرآباد
مطبع بہار ایران
مطبع بہار ہند، آگرہ
نقش کوکن پبلی کیشن ٹرسٹ، بمبئی
اے پی جے عبد الکلام
1931 - 2015
مصنف
صولت پبلک لائبریری، رامپور (یو۔ پی۔)
او. پی. گھئی
ای۔ پی۔ مون
اے پی میچل
یوپی رابطہ کمیٹی، علی گڑھ
او۔ پی۔ نامی
مترجم
او۔ پی۔ کیجروال
کیا بہار نقش پا ہے اے نیاز عاشقیلطف سر رکھنے میں کیا سر رکھ کے مر جانے میں ہے
سوجھتا ہے ہاتھ سے اس ناتوانی کے نصیرؔرفتہ رفتہ ہوں گے اک دن پائمال نقش پا
نہیں ممکن مٹانا مجھ کو مثل نقش پا یاروخلاؤں میں رہوں گا گونجتا بن کر صدا یارو
یہ نیم خواب گھاس پر اداس اداس نقش پاکچل رہا ہے شبنمی لباس کی حیات کو
راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوںہر گھڑی بننے بگڑنے کو پڑا رہتا ہوں
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
نقش پائے صنم
کلیم عرفی
نقش پا
عبدالمجید سرور
Feb 2000
نقش کف پا
جیلانی کامران
نظم
سورج چاند ستارے نقش پا ہیں سارے
علی کاظم
غزل
نقش پا ہواؤں کے
امیر امام
خلیج فارس و نقش استراتژیک تنگۂ ہرمز
ڈاکٹر محمد رضا حافظ
تاریخ نقش و نگار
عبد اللہ چغتائی
تاریخ
چشم نقش قدم
ترنم ریاض
مقالات/مضامین
شرح نقش تازہ
نصابی کتاب
بوستان مسرّت فزا
محمد شرف الدین شرف
دیوان
نقش پائے گماں
عاجز بیاولی
بہار کشمیر
بہار ہند
آتش زیر پا
ساجدہ زیدی
خواتین کی تحریریں
نقش نوا
عشرت ظفر
نقش پائے کارواں ہے زندگییعنی یاد رفتگاں ہے زندگی
آئینہ تمہارے نقش پا کاخورشید کو دے سبق جلا کا
ایک دھندلے سے نقش پا کے سواپاس کچھ بھی نہیں وفا کے سوا
نقش پائے رفتگاں سے آ رہی ہے یہ صدادو قدم میں راہ طے ہے شوق منزل چاہیئے
نقش پائے یار کو چوموں تو چوموں کس طرحہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے
نقش پا اس کے راستہ اس کامڑ کے دیکھا تو کچھ نہ تھا اس کا
مرے سائے میں اس کا نقش پا ہےبڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے
کوئی سراغ کوئی نقش پا نہیں ملتاتمہارے شہر کا اب راستہ نہیں ملتا
دسترس چھن جائے گی اور نقش پا کھو جائیں گےہم وہاں پر بیٹھے بیٹھے ریت کے ہو جائیں گے
آپ کا جس راستے میں نقش پا مل جائے گاطالب منزل کو منزل کا پتہ مل جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books