aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-sabab"
کلام صاحب بی۔ اے
مترجم
بے سبب کون خون روتا ہےدرد سا ایک دل میں ہوتا ہے
خواہ مخواہ بے سبب لٹائی ہوئیعمر بھی باپ کی کمائی ہوئی
بے سبب مسکرا رہا ہے چاندکوئی سازش چھپا رہا ہے چاند
آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سببدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سبب
بے سبب خامشی نہیں اوڑھیتیری آنکھوں کا حکم مانا ہے
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
ब-सबब بَسَبَب
سبب سے، وجہ سے، علت سے، کارن سے، موجب سے
ब-सबब بَہ سَبَب
शबाब के दिन شَباب کے دِن
جوانی کا زمانہ
बा-सवाब با صَواب
راستی اور خیر و خوبی پر مبنی ، درست ، ٹھیک (عموماً راۓ یا جواب وغیرہ کے لیے مستعمل)
بے سبب
عفت زریں
جواب با صواب
نامعلوم مصنف
اسلامیات
مسلم خواتین کے لیے بیس سبق
محمد عاشق الٰہی بلندشہری
وگیان مالا
ماسٹر رام چندر
پابجولاں
نعیم صبا
مجموعہ
آتش بے نام
مظفرالدین خاں صاحب
غزل
کرشمہ شباب
ایچ۔ ایم۔ حیران
رسالہ مسمیٰ بمشتھر الفیض
منشی گوبند لال صبا
ایرانی کوک ساشتر
عظمت علی حسرت لکھنوی
سراب فیشن
مرزا عباس بیگ محشر
ناول
ڈپٹی نذیر احمد صاحب کی کہانی
مرزا فرحت اللہ بیگ
سوانح حیات
التماس بحضور جناب نواب صاحب بہادر والی رامپور
سید محمود شاہ
شاہراہ زندگی
رام سروپ کوشل
شجرہ با ثمرہ سید احمد صاحب
ولایت علی صادقپوری عظیم آبادی
نقشبندیہ
پروفیسر ولسن صاحب کا رسالۂ امراض
آر بی ایس بھنڈاری
خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیا
وہ بت بے سبب کیوں خفا ہو گیاخداوند عالم یہ کیا ہو گیا
کمر خمیدہ نہیں بے سبب ضعیفی میںزمین ڈھونڈتے ہیں وہ مزار کے قابل
بے سبب غنچے چٹکتے نہیں گلزاروں میںپھر رہا ہے یہ ڈھنڈھورا تری رعنائی کا
بے سبب چاک پر دھرے تھے ہمبنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم
بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہےہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے
بے سبب خوف سے دل میرا لرزتا کیوں ہےبات بے بات یوں ہی خود سے الجھتا کیوں ہے
بے سبب جی سے گزرنا نہیں اچھا ہوتاموت سے پہلے بھی مرنا نہیں اچھا ہوتا
کبھی بے سبب تم رلا کر تو دیکھومجھے میری جاں آزما کر تو دیکھو
یکایک اور بظاہر بے سببشانے پہ اس نے ہاتھ کیا رکھا
ایک بچہ سا بے سبب جاذلؔبیٹھا رہتا ہے روٹھ کر مجھ میں
یہ میکش بے سبب تنہا کھڑے ہیںتو پھر یہ جام کیوں سارے بھرے ہیں
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
بے سبب آج آنکھ پر نم ہےجانے کس بات کا مجھے غم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books