آج تو بے سبب اداس ہے جی

ناصر کاظمی

آج تو بے سبب اداس ہے جی

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    آج تو بے سبب اداس ہے جی

    عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

    جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں

    جانے کیا چیز کھو گئی میری

    وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر

    اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی

    چھپتا پھرتا ہے عشق دنیا سے

    پھیلتی جا رہی ہے رسوائی

    ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے

    چھوڑ یہ بات نیند اڑنے لگی

    آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا

    میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

    ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے

    یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

    ایک دم اس کا ہاتھ چھوڑ دیا

    جانے کیا بات درمیاں آئی

    تو جو اتنا اداس ہے ناصرؔ

    تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY