aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ehsaas-e-shab-e-baraat"
بزم احساس ادب، لکھنؤ
ناشر
بزم احساس ادب، فتح پور
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
شب نور پبلی کیشنز، کولکاتا
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
اے بھارت بھوشن بابو
شان زہرہ
ادارۂ سحاب
کتب خانہ شان اسلام، لاہور
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
مطبع شام اودھ، لکھنؤ
مطبع فیض منبع شام اودھ
بزم شاد، پٹنہ
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عیدسوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
خوب ہے خوب اڑا اے شب فرقت کے مزےلطف ہر حال میں دیتے ہیں محبت کے مزے
اے شب فرقت نہ کر مجھ پر عذابمیں نے تیرا منہ نہیں کالا کیا
آنکھوں میں حیا اس کے جب آئی شب وصلپلکوں پہ پلک اس نے گرائی شب وصل
ہوا کی زد پہ چراغ شب فسانہ تھامگر ہمیں بھی اسی سے دیا جلانا تھا
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
مسائل شب برات و شب قدر
محمد رفعت قاسمی
رہنمائے شب برات
مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپوری
اسلامیات
شب برأت کے فضائل و معمولات
محمد طفیل احمد مصباحی
قصہ شب و روز
احتشام الحق آفاقی
لعل شب چراغ
ناول
چراغ شب افسانہ
آصف فرخی
افسانہ
دشت شب زندہ
محمود احمد سحر
چراغ شب تار
تصدق حسین
مجموعہ
آئینۂ شب و روز
قاضی محمد عدیل عباسی
ڈائری
بیاض شب و روز
ارمان نجمی
تنقید
آئینہ شب و روز
سوز شب غم
سلیم چودھری
تحفۂ درد نیم شب
اشوک ساہنی ساحل
چراغ آخر شب
محمود الحسن
شاعری
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
روز و شب حیات کے خانوں میں بانٹ کرقسطوں میں خود کشی کے وسائل ہوئے ہیں لوگ
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے
اے شب ہجراں زیادہ پاؤں پھیلاتی ہے کیوںبھر گیا جتنا ہماری عمر کا پیمانہ تھا
اے شب خواب یہ ہنگام تحیر کیا ہےخود کو گر نیند سے بیدار کیا ہے میں نے
بے نیاز شب تنہائی ہےآج بیمار کو نیند آئی ہے
مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئےوہ اشک تھے کہ ستارے سبھی خراب ہوئے
میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوںزندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوں
قید شب حیات بدن میں گزار کےاڑ جاؤں گا میں صبح اذیت اتار کے
کسی شکست خوردہ جواری کی طرح گردن جھکائے آہستہّ ہستہ سیڑھیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔ اس وقت وہ معمول سے زیادہ پریشان اور غمگین نظر آ رہا تھا۔ اس کے خشک اور منتشر بالوں نے اس کا حلیہ مزید بگاڑ رکھا تھا۔...
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراقآ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم
نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہدل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہماپنی تباہیوں پہ چراغاں کریں گے ہم
ہوائے شام جدائی ہے اور غم لاحقنہ جانے جسم کی دیوار کب بکھر جائے
خواب شب پر کیف کی تعبیر تو دے گاکچھ اور نہیں اپنی وہ تصویر تو دے گا
آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والےہم کہیں پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books