aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ehsaas-e-shab-e-baraat"
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
بزم احساس ادب، فتح پور
ناشر
بزم احساس ادب، لکھنؤ
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
شب نور پبلی کیشنز، کولکاتا
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
اے بھارت بھوشن بابو
شان زہرہ
ادارۂ سحاب
مکتبہ شان، حیدرآباد
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
کتب خانہ شان اسلام، لاہور
پادشاہ لکھنوی
1803 - 1837
مطبع فیض منبع شام اودھ
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عیدسوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
اے شب غم مرے مقدر کیتیرے دامن میں اک سحر ہوتی
آنکھوں میں حیا اس کے جب آئی شب وصلپلکوں پہ پلک اس نے گرائی شب وصل
دل دھڑکنے کی بھی آواز ہے ساکت ماہرؔاب نہیں کوئی شریک شب غم سو جاؤ
سیر شب لامکاں اور میںایک ہوئے رفتگاں اور میں
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
مسائل شب برات و شب قدر
محمد رفعت قاسمی
رہنمائے شب برات
مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپوری
اسلامیات
شب برأت کے فضائل و معمولات
محمد طفیل احمد مصباحی
قصہ شب و روز
احتشام الحق آفاقی
لعل شب چراغ
ناول
دشت شب زندہ
محمود احمد سحر
چراغ شب افسانہ
آصف فرخی
افسانہ
چراغ شب تار
تصدق حسین
مجموعہ
بیاض شب و روز
ارمان نجمی
تنقید
آئینہ شب و روز
قاضی محمد عدیل عباسی
ڈائری
آئینۂ شب و روز
تحفۂ درد نیم شب
اشوک ساہنی ساحل
سوز شب غم
سلیم چودھری
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
دشت و روز وشب
میر ہاشم
بے نیاز شب تنہائی ہےآج بیمار کو نیند آئی ہے
شاہد رہیو تو اے شب ہجرجھپکی نہیں آنکھ مصحفیؔ کی
طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے
فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میریگئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری
خواب شب پر کیف کی تعبیر تو دے گاکچھ اور نہیں اپنی وہ تصویر تو دے گا
اے شب فرقت نہ کر مجھ پر عذابمیں نے تیرا منہ نہیں کالا کیا
اے شب غم جو ہم بھی گھر جائیںشہر کس کے سپرد کر جائیں
اے شب ہجراں زیادہ پاؤں پھیلاتی ہے کیوںبھر گیا جتنا ہماری عمر کا پیمانہ تھا
کسی شکست خوردہ جواری کی طرح گردن جھکائے آہستہّ ہستہ سیڑھیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔ اس وقت وہ معمول سے زیادہ پریشان اور غمگین نظر آ رہا تھا۔ اس کے خشک اور منتشر بالوں نے اس کا حلیہ مزید بگاڑ رکھا تھا۔ ایسا...
لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیار
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books