aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "humakne"
صغرا ہمایوں مرزا
1884 - 1959
مصنف
محمد ہمایوں
born.1973
شاعر
محمد نصیر ہمایوں
ابراہیم ہمایوں کوکب
مدیر
نیاز ہمایونی
ہیومن ویلفئیر کاؤنسل، نئی دہلی
ناشر
آل انڈیا ہیومن کانفرنس، دہلی
نیشنل ہیومن فار نیڈفل فاؤنڈیشن، ناگپور
ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، لاہور
دیکھنا کیسے ہمکنے لگے سارے پتھرمیری وحشت کو تمہاری گلی پہچانتی ہے
گھر ہمکنے لگے لوگ بسنے لگےرنگ لو دے اٹھے پھول ہنسنے لگے
میں اپنی کوکھ میں سےخاموشیوں کے ہمکنے کی
جو مجھ میں سما کر ہمکنے لگامجھ کو ماضی سے کٹنے کا کچھ ڈر نہیں
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
کفیل آذر امروہوی کی یہ 10 منتخب اور بہترین غزلیں اُن کی شاعری کے نمائندہ رنگ پیش کرتی ہیں، جن میں محبت، ہجر، زندگی کے نشیب و فراز اور انسانی احساسات کی گہرائی پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ جو اُن کے منفرد اسلوب، سادہ مگر پُراثر بیان اور کلاسیکی روایت سے جڑی جدید حسیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
humane humane
رَحِیم
हुमकना ہُمَکنا
۱۔ چڑھائی کرنا ، حملہ کرنا ، تاخت کرنا ، یورش کرنا
سنسکرت
ہیومن اناٹومی و فزیالوجی
غلام جیلانی
سائنس
سندھی نامہ
ہیومن اناٹمی
نامعلوم مصنف
ہمارے نثر نگار
سید صفی مرتضٰی
میرے موسومہ خطوط
مرتب
رہبر کشمیر
خواتین کی تحریریں
سرگزشت ہاجرہ
کہانیاں/ افسانے
نصیحت کے موتی
ادب اطفال
ندیم الطلباء
اس۔ پی۔ جونز
دیگر
سفر نامہ یورپ
سفرنامہ
راز و نیاز
مرثیہ
سرگذشت ہاجرہ
مقصود العارفین
تصوف
انسانی فزیالوجی
ایس پی جانز
حوران جنت
منشی حسیب الدین
کیا غم جو صحن باغ میں آئی نہیں بہارشاخوں پہ چند پھول ہمکنے لگے تو ہیں
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نےآپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجودمحسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکنخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔکیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
ہم نے اکثر تمہاری راہوں میںرک کر اپنا ہی انتظار کیا
ہم نے کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا ہے اکثرلوگ بے درد ہیں پھولوں کو مسل دیتے ہیں
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہ
ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیںجس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک
کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرحوہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books