aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mahram-e-raaz-e-haram"
مجلس اہل راز، مدراس
ناشر
آل رضا رضا
1896 - 1978
شاعر
ابن رضا
سید فضل رب
مصنف
دفتر چراغ راہ، کراچی
محکمۂ اطلاعات، حیدرآباد
مدیر
تحریك فكر رضا، ممبئی
مجلس فکر رضا، لدھیانہ
حضرت رعد جونپوری
قاضی فضل رب
born.1924
مینجر ماہنامۂ نباض، لاہور
انتشارات در راہ حق قم
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
پنڈت جی جی رام بہادر رضا
محکمۂ ثقافت، حکومت سندھ
محرم راز حرم ہوں واقف بت خانہ ہوںمیں رہ و رسم محبت کا مگر دیوانہ ہوں
دانائے غم نہ محرم راز حیات ہمدھڑکا رہے ہیں پھر بھی دل کائنات ہم
محرم راز دل نواز ہے تونغمۂ زندگی کا ساز ہے تو
بزم فلک میں کون ہے اس کی رعنائی کا محرم رازکس کو اپنے دامن دل کے داغ دکھائے گا مہتاب
گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشقپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
مقبول اردو شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ پریم روگ اور رام تیری گنگا میلی کے گیتوں کے لئے مشہور
محرم راز و نیاز
مجموعہ
گلشن راز جدید
علامہ اقبال
گوہر راز دوام
صادقہ ذکی
افشائے راز پنہاں
کیتھراین بیمنٹ ڈیوس
سوانح حیات
شرح گلشن راز
شیخ محمود شبستری
مفاتیح الاعجاز فی شرح گلشن راز
سید محمد غیاث نور بخش گیلانی
ترجمہ
تنبیہ زبان دراز بجواب افشائے راز
سید ناصر علی اٹاوی
اسلامیات
مفاتیح الاعجاز
شاعری
غزالان حرم
مشتاق دربھنگوی
خوشہ کشت حرم
حماد انجم
باز دید حرم
سہیل انجم
چراغ دیر وحرم
سید صفدر حسین
غزل
خشت حرم
دروس حرم
نامعلوم مصنف
نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والےتمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والے
جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوںمیں تو سخن میں عشق کے بولوں نہ ہاں نہ ہوں
حیا اخفا راز دل کی اک تدبیر ہوتی ہےنظر جھکتی ہے وہ جس میں کوئی تحریر ہوتی ہے
نہ صرف دیر و حرم بلکہ چڑھ کے دار پہ بھیترے پکارنے والے تجھے پکار گئے
واقف راز بحر غم دل ہےموج طوفاں کا نام ساحل ہے
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھکہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ
کبھی ہو سکا تو بتاؤں گا تجھے راز عالم خیر و شرکہ میں رہ چکا ہوں شروع سے گہے ایزد و گہے اہرمن
رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہافسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھا
جو خودی سے آشنا ہو جائے گامحرم راز بقا ہو جائے گا
شیخ تو نیک و بد دختر رز کیا جانےوہ بچاری تو ترے پاس نہ آئی نہ گئی
میں صداقت کا پیمبرمحرم راز حقیقت
محرم راز محبت ہے اگر دل تیراتو خدا کے لیے اس راز کو رسوا بھی نہ کر
مانا کہ تو ہے محرم راز نہاں مگراپنی خبر نہیں ہے تو کچھ بھی خبر نہیں
مجھ پہ ہر اک راز بحر و بر کھلادید پس منظر سے ہر منظر کھلا
تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہےنظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books