aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maqaamaat-e-aah"
محکمہ نشریات لاسکی سرکار عالی
ناشر
محکمۂ اطلاعات و تعلقات عامہ، آندھرا پردیش
محکمہ اطلاعات و تعلقات عوام، پٹنہ
محکمۂ اطلاعات، حیدرآباد
مدیر
محکمہ فلم و مطبوعات وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان
محکمۂ ثقافت، حکومت سندھ
محکمۂ لائبریریز ریسرچ و پبلی کشن، سری نگر
پرکاشن شاکھا محکمۂ اطلاعات، یو پی
مطبع محکمۂ صدر نظامت کوتوالی اضلاع سرکار عالی
محكمه تعلقات عامه، پنجاب
محکمہ تعلقات عامہ مغربی پاکستان، لاہور
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
ہمارے بعد بھی رونق نہ آئی اس گھر پرچراغ ایک ہوا کو کئی بجھانے تھے
رحمتیں زحمتیں بن جاتی ہیں اکثر اے آہؔہو نہ یہ سیل بلا کالی گھٹا سے ڈریے
لئے اک نافۂ آہو پھرے ہو در بدر تم آہؔتمہیں اس کا سراپا اپنے اندر دیکھ لینا تھا
اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے
مقالات یوم جوہر
اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ
مقالات سراج منیر
محمد سہیل عمر
مقالات ادب اسلامی
بدرالدین فریدی
مقالات ابن الہیثم
حکیم محمد سعید دہلوی
مقالات تاریخ ہند
حبیب الرحمن چغانی
ہندوستانی تاریخ
مذمت غیبت و چغلی
امام محمد غزالی
اسلامیات
مقالات یوم شبلی
مقالات/مضامین
عبیداللہ خان
خدا بخش لائبریری،پٹنہ
مقالات شام ہمدرد
رپورٹ محکمۂ طبابت یونانی
دفتر نظامت طبابت یونانی سرکار عالی
طب یونانی
مقالات جاوید
مقامات دستگیری
مقالات سیرت
مطلوب حسین
مقالات احسانی
تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پنچھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے
ہنر افشانی خامہ کو دعا دو کہ فضاؔلفظ کو سہل ہوا نافۂ آہو لکھنا
خدنگ آہ کو روکے رہا ہوں فرقت میںخیال ہے مجھے افلاک کی تباہی کا
بلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سےکب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع
ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہےیہ ہنر بھی جہاں سے سیکھا ہے
بات پوری نہ کر سکے ان سےجب لیا عہد ناتمام لیا
یہ ستم اف آتش دیدار بھڑکانے کے بعدہو گئے روپوش وہ اک جلوہ دکھلانے کے بعد
کوئی بادہ کش جسے مے کشی کا طریق خاص نہ آ سکاغم زندگی کی کشاکشوں سے کبھی نجات نہ پا سکا
دل دادگان لذت ایجاد کیا کریںسیلاب اشک و آہ پہ بنیاد کیا کریں
پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ
ڈوبوں گا گر ہے میرے مقدر میں ڈوبناغواص بحر عشق کو ساحل سے کیا غرض
کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میںحباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میں
دل پکارا پھنس کے کوئے یار میںروک رکھا ہے مجھے گل زار میں
اس قدر بھی کوئی باتوں میں نہ آئے اے دلان کی ہر بات بجا ہو یہ ضروری تو نہیں
آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books