aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nigah-e-chashm-e-surma"
بنگاہ ترجمہ ونشر کتاب تہران
ناشر
چشمہ فکرو ادب،شعبہ اردو،بنگلور یونیورسٹی
انجمن نگار ادب، کانپور
نگار ادب پبلیکیشنز، کراچی
طبع چشمۂ فیض، لکھنؤ
چشمۂ نور پریس، امرتسر
مطبع چشمۂ فیض، فرخ آباد
مطبع چشمۂ حیات، فیض آباد
گلستان ادب اٹوا، سدھارتھ نگر، یو۔ پی۔
مطبع چشمۂ فیض، دہلی
مطبع چشمۂ کوثر، سہارنپور
مطبع چشمۂ حلم، پٹنہ
بزم ادب، شکتی نگر
مکتبہ اثر نیا آزاد نگر مالیگاؤں
حلقۂ نیاز و نگار، کراچی
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
دیکھیے خاک میں ملاتی ہےنگہ چشم سرمہ سا کب تک
وہ نگاہ چشم طلسم گر مجھے دیکھتے ہی لجا گئیوہ ادا جو سحر تمام سے بھی سوا کرشمہ دکھا گئی
اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کون
سیلاب چشم تر سے زمانہ خراب ہےشکوے کہاں کہاں ہیں مرے آب دیدہ کے
خواب صرف وہی نہیں ہے جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
معشوق کی ایک نگاہ کے لئے تڑپنا اور اگر نگاہ پڑ جائے تو اس سے زخمی ہوکر نڈھال ہوجانا عاشق کا مقدر ہوتا ہے ۔ ایک عاشق کو نظر انداز کرنے کے دکھ ، اور دیکھے جانے پر ملنے والے ایک گہرے ملال سے گزرنا ہوتا ہے ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی منتخب اشعار پیش کر رہے ہیں جو عشق کے اس دلچسپ بیانیے کو بہت مزے دار انداز میں سمیٹے ہوئے ہیں ۔
دیوان چشم آہو
یوسف الدین یوسف
غزل
چراغ چشم تر
ظفر گورکھپوری
مجموعہ
خیر بہ چشم اہل خیر
مقبول فاروقی
تنقید
چشم سر شام
حسن عزیز
چشم نقش قدم
ترنم ریاض
مقالات/مضامین
حلوہ دانش وسرمۂ بینش
حکیم بھگت رام
فلسفہ
حلوۂ دانش و سرمہ بینش
دیگر
چشم نیم باز
عرش صہبائی
نگاہِ محبوب
ملک لاہوری
امراض چشم
زبان بستہ و چشم کشادہ
اطہر رضوی
چشم دید
حیدر بیابانی
طنز و مزاح
چشم خوں بستہ
ثریا رحمٰن
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
محمد بدیع الزماں
شاعری
دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئیوہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی
منہ زرد و آہ سرد و لب خشک و چشم ترسچی جو دل لگی ہے تو کیا کیا گواہ ہے
حسن کے جلوے نہیں محتاج چشم آرزوشمع جلتی ہے اجازت لے کے پروانے سے کیا
زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھاتری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا
بس کہ دل محو خیال چشم نرگس فام ہے ہر طرف مد نظر موج گل بادام ہے بلبلیں شعلے پہ جھڑ مارتے ہیں جیوں پتنگ بے مروت بے وفا نامہرباں خود کام ہے حاجت جال و قفس اے پر جفا صیاد نیں رشتۂ مد نگہ مجھ ناتواں کا دام ہے التجائے ساغر سرشار ساقی میں رساؔ ہر نگاہ مست اس کی مد بھرا اک جام ہے
مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانےجو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے
تمام اجزاے عالم صید دام چشم گریاں ہےطلسم شش جہت یک حلقۂ گرداب طوفاں ہے
مایوس نہ ہو بے رخیٔ چشم جہاں سےشائستہ احساس کوئی کام کیے جا
پھیلا یہ سحر چشم فسوں ساز یار کاپٹنہ ہمارا خطۂ آشام ہو گیا
راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میراغیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا
واہ کیا فیضان چشم نرگس مستانہ تھاجس طرف نظریں اٹھیں مے خانہ ہی مے خانہ تھا
او چشم کیف پرور مے خانۂ محبتلبریز رنج و غم ہے پیمانۂ محبت
رموز چشم کرم سے جو با کمال ہوئےنصاب عشق میں وہ لوگ لا زوال ہوئے
رخصت چشم تماشہ کا ہے ماتم ورنہاک خلش پہلو میں رہتی تھی جہاں آج بھی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books